مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 365 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 365

۳۶۵ مضامین بشیر تاریک گھڑیوں میں ایک دو کو نہیں دس ہیں کو نہیں بلکہ سینکڑوں لوگوں کو بچوں کی طرح روتے اور بلکتے ہوئے دیکھا۔اپنے جُدا ہونے والے امام کے لئے نہیں، مجھے اعتراف کرنا چاہیئے کہ اس وقت جماعت کے غم کے سامنے یہ غم کھولا ہوا تھا بلکہ جماعت کے اتحاد اور اس کے مستقبل کی فکر میں مگر اکثر لوگ تسلی کے اس فطری ذریعہ سے بھی محروم تھے وہ رونا چاہتے تھے مگر افکار کے ہجوم سے رونا نہیں آتا تھا اور دیوانوں کی طرح ادھر اُدھر نظر اٹھائے پھرتے تھے تا کہ کسی کے منہ سے تسلی کا لفظ سن کر اپنے ڈوبتے ہوئے دل کو سہارا دیں۔غم یہ نہیں تھا کہ منکرین خلافت تعداد میں زیادہ ہیں یا یہ کہ ان کے پاس حق ہے کیونکہ نہ تو وہ تعداد میں زیادہ تھے اور نہ اُن کے پاس حق تھا بلکہ غم یہ تھا کہ باوجود تعداد میں نہایت قلیل ہونے کے اور با وجود حق سے دور ہونے کے ان کی سازشوں کا جال نہایت وسیع طور پر پھیلا ہوا تھا اور قریباً تمام مرکزی دفاتر پر ان کا قبضہ تھا اور پھر ان میں کئی لوگ رسوخ والے ، طاقت والے اور دولت والے تھے اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ چونکہ ابھی تک اختلافات کی کش مکش مخفی تھی۔اس لئے یہ بھی علم نہیں تھا کہ کون اپنا ہے اور کون بیگا نہ اور دوسری طرف جماعت کا یہ حال تھا کہ ایک بیوہ کی طرح بغیر کسی خبر گیر کے پڑی تھی۔گویا ایک ریوڑ تھا جس پر کوئی گلہ بان نہیں تھا اور چاروں طرف بھیڑیے تاک لگائے بیٹھے تھے۔سکینت کا نزول اس قسم کے حالات نے دلوں میں عجیب ہیبت ناک کیفیت پیدا کر رکھی تھی اور گو خدا کے وعدوں پر ایمان تھا مگر ظاہری اسباب کے ماتحت دل بیٹھے جاتے تھے۔مُجمعہ سے لے کر عصر تک کا وقت زیادہ نہیں ہوتا مگر یہ گھڑیاں ختم ہونے میں نہیں آتی تھیں۔آخر خدا خدا کر کے عصر کا وقت آیا اور خدا کے ذکر سے تسلی پانے کے لئے سب لوگ مسجد نور میں جمع ہو گئے۔نماز کے بعد حضرت مرزا بشیر الدین محموداحمد صاحب نے ایک مختصر مگر نہایت درد انگیز اور مؤثر تقریر فرمائی اور ہر قسم کے اختلافی مسئلہ کا ذکر کرنے کے بغیر جماعت کو نصیحت کی کہ یہ ایک نہایت نازک وقت ہے اور جماعت کے لئے ایک بھاری ابتلاء کی گھڑی در پیش ہے۔پس سب لوگ گریہ وزاری کے ساتھ خدا سے دُعائیں کریں کہ وہ اس اندھیرے کے وقت جماعت کے لئے روشنی پیدا کر دے اور ہمیں ہر رنگ کی ٹھوکر سے بچا کر اس رستہ پر ڈال دے جو جماعت کے لئے بہتر اور مبارک ہے۔اس موقع پر آپ نے یہ بھی تحریک فرمائی کہ جن لوگوں کو طاقت ہو وہ کل کے دن روزہ بھی رکھیں تا کہ آج رات کی نمازوں اور دُعاؤں کے ساتھ کل کا دن بھی دُعا اور ذکر الہی میں گزرے۔اس تقریر کے دوران میں لوگ بہت روئے اور