مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 366 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 366

مضامین بشیر ۳۶۶ مسجد کے چاروں کونوں سے گریہ و بکا کی آوازیں بلند ہوئیں مگر تقریر کے ساتھ ہی لوگوں کے دلوں میں ایک گونہ تسلی کی صورت بھی پیدا ہو گئی اور وہ آہستہ آہستہ منتشر ہو کر دعائیں کرتے ہوئے اپنی اپنی جگہوں کو چلے گئے۔مولوی محمد علی صاحب کا مخفی رسالہ رات کے دوران میں اس بات کا علم ہوا کہ منکرین خلافت کے لیڈر مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کی وفات سے قبل ہی ایک رسالہ ایک نہایت ضروری اعلان کے نام سے چھپوا کر مخفی طور پر تیار کر رکھا تھا اور ڈاک میں روانہ کرنے کے لئے اس کے پیکٹ بھی بنوا رکھے تھے اور اب یہ رسالہ بڑی کثرت سے تقسیم کیا جارہا تھا بلکہ یہ محسوس کر کے کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات بالکل سر پر ہے ، آپ کی زندگی میں ہی اس رسالہ کو ڈور ڈور کے علاقوں میں بھجوا دیا گیا تھا۔اس رسالہ کا مضمون یہ تھا کہ جماعت میں خلافت کے نظام کی ضرورت نہیں بلکہ انجمن کا انتظام ہی کافی ہے۔البتہ غیر احمدیوں سے بیعت لینے کی غرض سے اور حضرت خلیفہ اصیح اول کی وصیت کے احترام میں رکسی شخص کو امیر مقرر کیا جا سکتا ہے مگر یہ شخص جماعت یا صدر انجمن احمدیہ کا مطاع نہیں ہوگا بلکہ اس کی امارت اور سرداری محدود اور مشروط ہوگی وغیرہ وغیرہ۔یہ اشتہار یا رسالہ میں اکیس صفحے کا تھا اور اس میں کافی مفصل بحث کی گئی تھی اور طرح طرح سے جماعت کو اس بات پر ابھارا گیا تھا کہ وہ کسی واجب الاطاعت خلافت پر رضامند نہ ہو۔جب قادیان میں اس رسالہ کا علم ہوا اور یہ بھی پتہ لگا کہ قادیان سے با ہراس رسالہ کی اشاعت نہایت کثرت کے ساتھ کی گئی ہے تو طبعا اس پر بہت فکر پیدا ہوا که مبادا یہ رسالہ نا واقف لوگوں کی ٹھوکر کا باعث بن جائے۔اس کا فوری ازالہ وسیع پیمانہ پر تو مشکل تھا مگر قادیان کے حاضر الوقت احمدیوں کی ہدایت کے لئے ایک مختصر سا نوٹ تیار کیا گیا جس میں یہ درج تھا کہ جماعت میں اسلام کی تعلیم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وصیت کے مطابق خلافت کا نظام ضروری ہے اور جس طرح حضرت خلیفہ اسی اول جماعت کے مطاع تھے۔اسی طرح آئندہ خلیفہ بھی مطاع ہوگا اور خلیفہ کے ساتھ کسی قسم کی شرائط طے کرنا یا اس کے خدا دا د ا ختیاروں کو محمد ود کرنا کسی طرح درست نہیں۔اس نوٹ پر حاضر الوقت لوگوں کے دستخط کرائے گئے تا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہو کہ جماعت کی اکثریت نظام خلافت کے حق میں ہے۔غرض یہ رات بہت سے لوگوں نے انتہائی کرب اور اضطراب کی حالت میں گزاری۔