مضامین بشیر (جلد 1) — Page 358
مضامین بشیر ۳۵۸ تعداد میں شائع ہو۔۴۔اس موقع پر یادگار کی غرض سے صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک فوٹو بھی لیا جائے جس میں حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ رونق افروز ہوں۔اسی طرح اس فوٹو میں وہ اصحاب بھی شریک ہوں جنہوں نے خلافت جو بلی فنڈ میں اپنی ماہوار آمد سے کم از کم ڈیڑھ گنا چندہ دیا ہو۔اگر ایک فوٹو کے لئے یہ تعداد زیادہ کبھی جائے تو صحابہ اور چندہ دہندگان کا الگ الگ فوٹو لے لیا جائے اور ہر دو میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ سے شرکت کی درخواست کی جائے۔۵۔اس تقریب پر جلسے کی درمیانی شب کو قادیان کی تمام مساجد منارۃ اصیح اور سلسلہ کی دیگر پبلک عمارات پر چراغاں کیا جائے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی بعض خوشی کے موقعوں پر ہوا ہے۔یہ چراغاں خوشی کے طبعی اظہار کے علاوہ تصویری زبان میں اس بات کی بھی علامت ہوگا کہ جماعت کی یہ دلی خواہش اور کوشش ہے کہ اللہ تعالیٰ سلسلہ کے نور کو بہتر سے بہتر صورت میں اور جلد سے جلد دنیا کے سارے کناروں تک پہونچائے۔۶۔اس تقریب پر جماعت کے نادار یتامیٰ اور بیوگان اور مساکین کی بھی کسی مناسب رنگ میں امداد کی جائے یا کھانا کھلایا جائے جس کی تفصیل بعد میں سوچی جاسکتی ہے۔ے۔اس تقریب پر نیشنل لیگ کور اور خدام الاحمدیہ کا بھی قادیان میں ایک شاندار اجتماع کیا جائے اور مناسب صورت میں ان ہر دو کے مفید کاموں کی نمائش ہو۔۔اگر ممکن ہو تو اس موقع پر قادیان میں ایک عظیم الشان جلوس بھی نکالا جائے جس میں ہر جماعت کا علیحدہ علیحدہ دستہ ہو اور ہر دستہ کا علیحدہ علیحدہ جھنڈا ہو جس پر مناسب عبارت لکھی ہو اور اس جلوس میں حمد اور مدع کے گیت گائے جائیں اور مناسب موقعوں پر مختصر تقریریں بھی ہوں۔اس کی تفاصیل بعد میں سوچی جاسکتی ہیں۔۹۔اس تقریب پر قادیان میں ایک پاکیزہ مشاعرہ بھی منعقد کیا جائے جس میں سلسلہ کے چیدہ شعراء سلسلہ احمدیہ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خلافت کی برکات کے متعلق اپنے اپنے اشعار پڑھ کر سنائیں اور پھر ان میں سے خاص خاص نظموں کا مجموعہ طبع کر کے شائع کر دیا جائے یا پہلے سے ہی انتخاب کرا کے طبع کر لیا جائے اور مشاعرہ کے موقع پر اسے شائع کر دیا جائے۔۱۰۔اگر ممکن ہو تو صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے اس تقریب پر یہ بھی انتظام کیا جائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی تصنیفات میں سے جو تصنیفات اس وقت نایاب ہوں انہیں دوبارہ طبع کرا کے شائع کیا جائے تا کہ اس قیمتی خزانہ میں