مضامین بشیر (جلد 1) — Page 28
مضامین بشیر ۲۸ روایات وہی ہیں جن کا سیرت کے ساتھ تعلق ہے۔پس اگر ان کثیر التعدا د روایات کی بناء پر کتاب کا نام سیرۃ رکھ دیا جاوے تو قابل اعتراض نہیں ہونا چاہیئے اور کم از کم یہ کہ یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جسے ڈاکٹر صاحب جائے اعتراض گردان کر اسے اپنی تنقید میں جگہ دیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وجود باجود ہر مخلص احمدی کے لئے ایسا ہے کہ خواہ نخواہ طبیعت میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ آپ کے متعلق جو کچھ بھی ہمارے علم میں آ جاوے وہی کم ہے اور جذ بہ محبت کسی بات کو بھی جو آپ کے ساتھ تعلق رکھتی ہو ، لا تعلق کہہ کر نظر انداز نہیں کرنے دیتا۔پس اگر میرا شوق مجھے کہیں کہیں لاتعلق باتوں میں لے گیا ہے تو اس خیال سے کہ یہ باتیں بہر حال ہیں تو ہمارے آقا ، ہماری جان کی راحت ، اور ہماری آنکھوں کے سرور حضرت مسیح موعود ہی کے متعلق۔میرا یہ علمی جرم اہل ذوق اور اہل اخلاص کے نزد یک قابل معافی ہونا چاہیئے۔مکرم ڈاکٹر صاحب اگر آپ محبت کے میدان میں بھی خشک فلسفہ اور تدوین علم کی باریکیوں کو راہ دینا چاہتے ہیں تو آپ کا اختیار ہے مگر تاریخ عالم اور صحیفہ فطرت کے مطالعہ سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ جذبہ محبت ایک حد تک ان سخت قیود سے آزاد سمجھا جانا چاہیئے۔آپ اشعار کا ذوق رکھتے ہیں۔یہ شعر تو آپ نے ضرور سنا ہوگا خلق میگوئید که خسرو بت پرستی میکند آرے آرے میکنم با خلق و عالم کار نیست بس یہی میرا جواب ہے۔حضرت مسیح موعود بھی فرماتے ہیں، تا نه دیوانه شدم ہوش نیا مد بسرم اے جنوں گرد تو گردم که چه احسان کردی کے پس جوش محبت میں ہمارا تھوڑا سا دیوانہ پن کسی احمدی کہلانے والے پر گراں نہیں گذرنا چاہیئے۔تیسرا جواب اس اعتراض کا میری طرف سے یہ ہے کہ میں نے خود اس کتاب کے آغاز میں اپنی اس کتاب کی غرض و غایت لکھتے ہوئے یہ لکھ دیا تھا کہ اس مجموعہ میں ہر ایک قسم کی وہ روایت درج کی جاوے گی جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔چنانچہ کتاب کے شروع میں میری طرف سے یہ الفاظ درج ہیں :- ” میرا ارادہ ہے۔واللہ الموفق کہ جمع کروں اس کتاب میں تمام وہ ضروری باتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے متعلق تحریر فرمائی ہیں اور جو دوسرے لوگوں نے لکھی ہیں۔نیز جمع کروں تمام وہ زبانی روایات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق مجھے پہنچی ہیں۔یا جو آئندہ پہنچیں اور نیز وہ باتیں جو میرا ذاتی علم اور