مضامین بشیر (جلد 1) — Page 335
۳۳۵ مضامین بشیر خلافت جو بلی فنڈ اور اہل قادیان کی مخلصانہ قربانی خلافت جو بلی فنڈ کے متعلق اہل قادیان نے ابتداء میں پچپیس ہزار روپے کا وعدہ کیا تھا جس میں سے خاکسار نے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے دس ہزار روپیہ جمع کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔الحمد للہ کہ قادیان کے دوستوں نے اس تحریک میں توقع سے بڑھ کر شوق واخلاص کا نمونہ دکھایا ہے۔چنانچہ کمیٹی خلافت جو بلی فنڈ قادیان نے خدا کے فضل اور جماعت کے اخلاص پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے پچیس ہزار کے وعدہ کو بڑھا کر تمیں ہزار کر دیا ہے جو گویا اس فنڈ کی مجموعی رقم کا دسواں حصہ ہے۔اور قادیان کے دوست جس شوق کے ساتھ اس تحریک میں حصہ لے رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے یہ امید کرنا بعید از قیاس نہیں کہ اگر خدا کا فضل شامل رہے تو شائد مرکزی جماعت اپنے تمہیں ہزار کے وعدے سے بھی کچھ زیادہ رقم جمع کر لے۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی دس ہزار کی رقم کو بڑھا کر ساڑھے بارہ ہزار کر دیا ہے۔اسی طرح لجنہ اماءاللہ قادیان سے بھی دو ہزار کی توقع کی جاتی ہے۔فجزاهم ا خيراً كان الله معهم - قادیان کے مختلف محلوں کے پریزیڈنٹ صاحبان بڑے شوق اور اخلاص کے ساتھ اس تحریک کو کامیاب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور جو رپورٹیں مجھے ان کی طرف سے موصول ہو رہی ہیں ان سے پتہ لگتا ہے کہ خدا کے فضل سے اہلِ قادیان نے اس تحریک کی غرض وغایت اور اس کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور اس کے مطابق اپنی کمر ہمت کو کس کر ہر قربانی کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔چنانچہ قادیان کے ایک غریب دوست کے متعلق مجھے رپورٹ ملی ہے کہ انہوں نے ایک زمین کا ٹکڑا جس کی قیمت قریباً تین سو روپیہ ہے اس چندہ میں پیش کر دیا ہے حالانکہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ دوست بالکل بیکار ہیں اور کوئی ماہوار آمد نہیں رکھتے اور غالبا چندہ عام کی شرکت سے بھی عموماً محروم رہتے ہیں - الله مگر اس تحریک میں انہوں نے اپنی اڑھائی تین سو روپے کی زمین بخوشی پیش کر دی ہے۔اسی طرح ایک اور بزرگ جنہوں نے پہلے اس تحریک کو ایک عام تحریک خیال کرتے ہوئے صرف حصولِ ثواب کی غرض سے پانچ روپیہ چندہ لکھایا تھا ، جب ان پر اس تحریک کی اہمیت ظاہر ہوئی تو انہوں نے پانچ روپے کی بجائے پانچ سو روپیہ چندہ لکھا یا حالانکہ ان کی ماہوار آمد صرف