مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 336 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 336

مضامین بشیر دوسور و پیہ ہے۔۔۳۳۶ اسی طرح ایک اور دوست نے ابتداء میں صرف پچیس روپے چندہ لکھایا تھا لیکن جب قادیان کی کمیٹی کے قیام کے بعد ان پر اس تحریک کی غرض و غایت اور اہمیت ظاہر کی گئی تو انہوں نے اپنے چندہ کو بڑھا کر تین سو کر دیا اور بعد میں شائد اس سے بھی زیادہ کر دیں۔اسی قسم کی بہت سی مثالیں قادیان کے قریباً ہر محلہ میں پائی جاتی ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ تخت گاہ رسول کے حاشیہ نشین خدائی نعمت کی شکر گزاری میں کسی دوسرے سے پیچھے نہیں ہم نے قادیان کے ہر محلہ کے ذمہ اس کے سالانہ بجٹ کو سامنے رکھ کر اس سے کم و بیش ڈیوڑھی رقم لگا دی تھی۔جو پریزیڈنٹ صاحبان کے مشورہ سے لگائی گئی تھی لیکن جب یہ رقم اہل محلہ کے سامنے پیش ہوئی تو قریباً سب محلہ والوں نے اتفاق رائے کے ساتھ اس سے زیادہ رقم مہیا کرنے کی آمادگی ظاہر کی جو بعض صورتوں میں ہماری مشورہ کردہ رقم سے ڈیڑھ گنی اور اصل سالانہ بجٹ کی رقم سے اڑھائی تین گنی تک پہونچتی ہے۔اخلاص کا یہ قابل قدرنمونہ یقیناً نہایت خوشکن اور ایمان افروز ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے بھائیوں کے ایمان وا خلاص میں اس سے بھی بڑھ کر برکت عطا کرے اور دوسروں کو بھی ان کے نمونہ پر چلنے کی توفیق دے کیونکہ ایک نیک اور صالح عمل کا یہی بہترین ثمرہ ہے۔میں اس موقع پر اپنے دوستوں کو پھر یہ بات یاد دلانا چاہتا ہوں کہ خلافت جو بلی فنڈ کی تحریک کوئی معمولی تحریک نہیں ہے بلکہ جس صورت اور جن حالات میں وہ جماعت کے سامنے آئی ہے ان کے ماتحت وہ : - اول: جماعت کے اس اخلاص و ایمان کا امتحان ہے جو اس کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق قائم ہے۔جن کے دعوے پر آج پچاس سال۔ہاں کامیابی و کامرانی کے پچاس سال پورے ہورہے ہیں۔دوم : وہ جماعت کی اس محبت و وفاداری کا بھی امتحان ہے جو اسے خلافت جیسی عظیم الشان نعمت کے ساتھ حاصل ہے جس کے موجودہ دور پر عنقریب پچیس سال پورے ہونے والے ہیں۔سوم : وہ ایک حقیر مالی شکرانہ ہے جو سلسلہ کے قیام پر پچاس سال اور موجودہ خلافت کے قیام پر پچیس سال پورے ہونے پر خدا کے حضور پیش کیا جارہا ہے۔چہارم : وہ اس قلبی عہد کا عملی اظہا ر ہے کہ جو ذمہ داریاں سلسہ کے قیام کے ساتھ ہمارے کندھوں پر ڈالی گئی ہیں ہم انہیں بیش از پیش شوق و قربانی کے ساتھ اٹھانے