مضامین بشیر (جلد 1) — Page 331
٣٣١ مضامین بشیر لئے پسینہ نہیں بہانا پڑتا تو وہ اس خدائی فضل کا یہ بدلہ دے کہ اپنی خدا دا د طاقتوں اور وقت کے قیمتی خزانہ کو بے سود ضائع کر دے۔اس پر تو دوسروں کی نسبت بھی زیادہ فرض ہے کہ وہ اپنے وقت کو مفید صورت میں گزارے اور اپنے عمل سے ثابت کر دے کہ وہ خدا تعالیٰ کا ایک شکر گزار بندہ ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو یقیناً وہ دوہرے الزام کے نیچے آتا ہے کہ خدا نے اسے فارغ البالی عطا کر کے قومی اور دینی خدمت کا موقع عنایت کیا مگر اس نے اس موقع کو ضائع کر دیا اور اگر اقتصادی لحاظ سے دیکھیں تو پھر بھی ایسے لوگوں کے لئے کام کرنا بہتر ہے کیونکہ مثلاً اگر ایک شخص کو جائیداد سے پانچ سو روپے ماہوار کی آمد ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ملازمت یا کا روبار میں اپنا وقت لگا کر اس آمد میں اضافہ نہ کرے۔یہ اضافہ اسے بہت سے دینی اور دنیوی کاموں میں مفید ہو سکتا ہے مگر بد قسمتی سے جہاں بھی رکسی شخص کو بغیر کام کے چار پیسے ملنے لگ جائیں وہ اپنے آپ کو کام سے بے نیاز سمجھنے لگ جاتا ہے اور اس طرح منعم علیہ جماعت میں ہو کر مغضُوبِ عَلَيْهِمْ کے گروہ کا راستہ لے لیتا ہے اور خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ کا موجب بنتا ہے۔بے شک اگر کسی شخص کی جائیداد کا انتظام اس قدر وسیع ہے کہ وہ اس کے سارے وقت کو چاہتا ہے تو اسے اس انتظام میں اپنا وقت صرف کر کے مالی رنگ میں دین کی خدمت کرنی چاہیئے لیکن اگر جائیداد کا انتظام پورا وقت نہیں چاہتا تو کوئی وجہ نہیں کہ ایسا شخص اپنا سارا وقت یا اپنا زائد وقت جیسی بھی صورت ہو قوم اور دین کی خدمت میں خرچ نہ کرے اور اپنی خدا دا د طاقتوں کو بریکاری جیسی لعنت میں ضائع کر دے۔نقصان ہی نقصان خلاصہ کلام یہ کہ بیکاری کی جملہ اقسام میں وقت اور خدا دا د طاقت اور اخلاق اور دین کا نقصان پایا جاتا ہے۔کسی میں کم اور کسی میں زیادہ اور بعض اقسام میں تو سراسر نقصان ہی نقصان ہے۔پس ہمارے دوستوں کو چاہیئے کہ وہ بیکاری جیسی موذی مرض سے خود بھی بچیں اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کو بھی بچانے کی کوشش کریں اور اگر انہیں کسی وجہ سے کسی وقت بیکاری کا اقتصادی حل نظر نہ آئے تو اس کی وجہ سے گھبرا میں نہیں بلکہ انسداد بیکاری کے اخلاقی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے تربیتی تدابیر اختیار کر لیں۔اس طرح انشاء اللہ تعالیٰ ان کے دین اور دُنیا ہر دو کو عظیم الشان فائدہ پہنچے گا اور وہ جماعت کا ایک نہایت مفید اور بابرکت حصہ بن جائیں گے۔انسداد بے کا ری کے اخلاقی پہلو میں مندرجہ ذیل امور خصوصیت سے یا در کھے جائیں :-