مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 321 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 321

۳۲۱ مضامین بشیر ایک قابل تحقیق مسئلہ علماء جماعت احمدیہ کو علمی تحقیق کی دعوت سلسلہ عالیہ احمدیہ کے قیام کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ عقائد ومسائل کی ان غلطیوں کو صاف کیا جائے جو کسی نہ کسی وجہ سے مسلمانوں میں رائج ہو چکی ہیں۔ان میں سے بہت سی غلطیوں کے متعلق تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء کے فتاویٰ کے ماتحت اصلاح ہو چکی ہے لیکن ابھی تک بعض مسائل ایسے ہیں جن میں تحقیق کی ضرورت ہے۔ان مسائل میں سے ایک مسئلہ جو بہت اہم اور وسیع الاثر ہے وہ تقسیم ورثہ سے تعلق رکھتا ہے یعنی کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کی زندگی میں فوت ہو جائے اور اس کے دوسرے بھائی موجود ہوں تو کیا اس کے والد کی وفات پر اس کے بچوں کو دادا کے ترکہ میں سے حصہ ملے گا ؟ اس بارے میں عام طور پر اسلامی حکم یہ سمجھا جاتا ہے کہ مذکورہ بالا صورت میں بچوں کو دادا کے ورثہ میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔مثلاً اگر ایک شخص زید نامی کے دو بیٹے بکر اور عمر نامی ہوں اور ان میں سے عمر زید کی زندگی میں چند بچے چھوڑ کر فوت ہو جائے تو عام فتوی یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس صورت میں زید کی وفات پر زید کا سارا تر کہ جو بیٹوں کو ملنا تھا وہ بکر لے جائے گا اور عمر کے بچوں کو کوئی حصہ نہ ملے گا۔اور موٹے طور پر اس مسئلہ کی بنیاد یہ دلیل قرار دی جاتی ہے کہ پوتوں نے تو باپ کے واسطے سے داد کے ترکہ میں سے حصہ لینا تھا لیکن جب باپ کی وفات نے خود باپ کو ہی ورثہ سے مرحوم کر دیا تو اس کے بچوں کو کہاں سے حصہ پہونچ سکتا ہے۔قانونی اور منطقی رنگ میں یہ ایک بظاہر معقول دلیل ہے لیکن ساتھ ہی یہ صورت اسلامی تعلیم کی روح کے خلاف نظر آتی ہے کیونکہ اول تو جو اولاد حقیقت کے لحاظ سے دادا کی صحیح نسل ہے۔اسے محض ایک اصطلاحی آڑ کی بنا پر ورثہ سے محروم کر دینا اسلامی عدل وانصاف کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔دوسرے بیٹا خواہ باپ کی زندگی میں فوت ہو جائے مگر بالقوة طور پر وہ موجود رہتا ہے اور اس کی اولاد اس کی قائم مقام ہے جو محض اس کے مرنے کی وجہ سے دادا کی نسل سے خارج نہیں قرار دی جا سکتی۔بہر حال یہ ایک بہت اہم مسئلہ ہے اور اب جبکہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز