مضامین بشیر (جلد 1) — Page 318
مضامین بشیر ۳۱۸ ان میں سے صرف ایک خصلت پائی جائے تو ایسے شخص میں ایک خصلت نفاق کی سمجھی جائے گی۔حتی کہ وہ اسے ترک کر کے تائب ہو جائے۔“ اور وہ چار حصلتیں یہ ہیں کہ :۔(1) جب کسی شخص کو امام جماعت یا نظام جماعت کی طرف سے کوئی امانت سپر د ہو، خواہ وہ کوئی مالی امانت ہو یا کسی عہدہ وغیرہ کی ذمہ داری کے رنگ میں ہو تو وہ اس میں خیانت کرے۔(۲) جب وہ امام جماعت یا دوسرے ذمہ دار افسروں کی طرف منسوب کر کے لوگوں کے سامنے کوئی بات بیان کرے تو اس میں کذب بیانی سے کام لے یا جب وہ امور خوف دامن کے متعلق امام جماعت یا اس کے مقرر کردہ افسران کے پاس کوئی رپورٹ کرے تو اس میں غلط بیانی کا مرتکب ہو۔(۳) جب وہ امام جماعت یا عہدہ داران جماعت سے جماعتی امور میں کوئی عہد باند ھے تو اس میں غداری کرے۔(۴) جب اسے امام جماعت یا نظامِ جماعت سے کوئی اختلاف پیدا ہو تو اس اختلاف کی بناء پر وہ جماعت سے یا تو عملاً منحرف ہو جائے یا بالکل قطع کر لینے کے لئے تیار ہو جائے۔یا د رکھنا چاہیئے کہ فجر کے معنی صرف بد زبانی اور مخش گوئی کے نہیں ہیں بلکہ منحرف ہو جانے اور قطع تعلق کرنے کے بھی ہیں۔اور اس جگہ حدیث میں یہی معنی مراد ہیں ) یہ وہ چار خصائل ہیں کہ جب کسی شخص میں وہ یکجا پائے جائیں تو وہ یقینا قسم اول کا منافق ہوگا اور اس کے ایمان کا دعوی بالکل جھوٹا سمجھا جائے گا لیکن اگر یہ چار خصائل یکجا نہ پائے جائیں بلکہ ان میں سےصرف بعض پائے جائیں اور بعض نہ پائے جائیں تو ایسا شخص خالص منافق نہیں ہوگا بلکہ حسب حالات دوسری اقسام میں سے سمجھا جائے گا۔اس حدیث کی تشریح کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ یہ جو چار کمزوریاں حدیث میں بیان ہوئی ہیں، ان سے عام لین دین کی کمزوریاں مراد نہیں ہیں کیونکہ عام رنگ کی کمزوریاں تو بعض اوقات ایک سچے مومن میں بھی پائی جاسکتی ہیں۔پس ان سے عام کمزوریاں مراد نہیں بلکہ تعلقات ما بین الافراد والجماعت کے دائرہ کی کمزوریاں مُراد ہیں کیونکہ نفاق کے مرض کو اسی حلقہ کے ساتھ مخصوص تعلق ہے اور گو اس میں مبہ نہیں کہ یہ کمزوریاں ایسی فتیح ہیں کہ عام رنگ میں بھی وہ جس کے اندر پائی جائیں وہ کم از کم پختہ مومن نہیں سمجھا جا سکتا لیکن چونکہ نفاق کا تعلق تعلقات ما بین الافراد اور جماعت سے ہے ، اس لئے حدیث مندرجہ بالا میں اسی دائرہ کی کمزوریاں مراد ہیں۔بہر حال نفاق کی