مضامین بشیر (جلد 1) — Page 319
۳۱۹ مضامین بشیر یہ چار علامتیں ہیں جو حدیث نے بیان کی ہیں اور یہ علامتیں کم و بیش تینوں قسم کے منافقوں میں پائی جاتی ہیں۔یعنی قسم اول کے منافق میں جسے حدیث نے خالص منافق کے نام سے یاد کیا ہے۔وہ سب کی سب پائی جاتی ہیں اور باقی اقسام میں حسب حالات جزو آ پائی جاتی ہیں : نفاق کیا ہے؟ مندرجہ بالا بیان سے ظاہر ہے کہ منافق تین قسم کے یا ایک لحاظ سے پانچ قسم کے ہیں اور ان اقسام کی روشنی میں ہر وہ شخص نفاق کے مرض میں مبتلا سمجھا جائے گا جو : - اول : بظاہر تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کا دعوی کرے مگر دل میں آپ کا منکر اور کافر ہو۔دوم : حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر تو دل سے ایمان لاتا ہو اور بظاہر خلیفہ وقت کی بیعت میں بھی داخل ہو مگر دل میں خلیفہ وقت کو سچا نہ سمجھتا ہو۔سوم : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دل میں اور ظاہر میں ہر دوطرح سچا سمجھتا ہومگر اس قدر کمزور ایمان ہو کہ ذرا سے دھکے سے متزلزل ہونے لگے۔چهارم : خلیفہ وقت کو دل میں اور ظاہر میں ہر دو طرح برحق خیال کرتا ہو مگر خلافت کے متعلق اس قدر کمزور ایمان ہو کہ بات بات پر گرنے کا خطرہ پیدا ہو جائے۔پنجم : جہاں تک عقیدہ کا تعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خلیفہ وقت ہر دو کے متعلق سچا اعتقاد رکھتا ہو مگر اس اعتقاد کا اثر اس کے اعمال تک نہ پہونچے اور جماعت کے لئے محبت اور غیرت اور قربانی کے معاملہ میں حد درجہ کمزور ہو کہ خواہ عام ایمانی ابتلاؤں میں سنبھلا رہے مگر جماعت کی ترقی میں ممد و معاون ہونے کی بجائے عملاً اس کے رستہ میں ایک روک بن جائے اور اس کے اعمال غیروں کے اعمال سے مشابہ ہوں۔منافق کی علامات اس کے مقابل پر جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے منافق کی علامات یہ ہیں : اول : جب امامِ وقت یا جماعت کی طرف سے اس کے ذمہ کوئی کام یا فرض لگایا جائے تو وہ اس میں خیانت سے کام لے۔دوم : جب وہ امام جماعت یا دوسرے ذمہ دار افسروں کی طرف منسوب کر کے لوگوں کے