مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 314 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 314

مضامین بشیر اقسام میں منقسم ہے :- اعتقادی منافق ۳۱۴ اول :۔کوئی شخص دل میں تو منکر اور کا فر ہو مگر کسی غرض کے ماتحت اپنے آپ کو مومن ظاہر کرے۔یہ قسم نفاق کی ایک واضح ترین اور کھلی کھلی صورت ہے۔جس میں منافق پوری طرح اپنی دوغلی چال سے واقف ہوتا ہے مگر طمع یا خوف یا عداوت کی غرض سے دانستہ یہ طریق اختیار کرتا ہے اور گو عام حالات میں وہ لوگوں سے اپنی اصلی حالت کو چھپاتا ہے مگر کبھی کبھی نگا بھی ہو جاتا ہے۔احمدیت کے ماحول میں اس نفاق کی مثال یوں سمجھی جائے گی کہ ایک شخص دل میں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نعوذ باللہ جھوٹا سمجھتا ہو مگر کسی وجہ سے ظاہر میں جماعت کے اندر شامل ہو جائے یا شامل رہے۔یا یہ کہ ایک شخص دل میں تو خلیفہ وقت کو برحق نہ سمجھتا ہو اور اس کی خلافت حقہ کا منکر ہومگر ظاہر میں کسی غرض کے ماتحت بیعت میں شامل رہے اور اپنے آپ کو خلافت کے حلقہ بگوشوں میں ظاہر کرے۔اس قسم کے منافق کو اعتقادی منافق کہتے ہیں اور جیسا کہ ابھی بیان کیا گیا ہے۔احمدیت کے ماحول میں یہ نفاق دو اقسام میں قسم ہے : (الف) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق نفاق۔(ب) خلیفہ وقت کے متعلق نفاق۔کمزور ایمان کا منافق دوم : کوئی شخص دل اور ظاہر ہر دو میں تو واقعی مومن ہو مگر اس کے ایمان میں اس درجہ کمزوری پائی جائے کہ بانی سلسلہ یا خلیفہ وقت یا نظام جماعت کے ساتھ اس کا ایمانی جوڑ اس قدر کمزور ہو کہ وہ کسی دھکے کی برداشت نہ کر سکے اور ہر ابتلاء کے وقت ٹوٹنے کے لئے تیار رہے۔اس نفاق کو کمزوری ایمان والا نفاق کہنا چاہیئے۔نفاق کی یہ قسم بھی نبوت اور خلافت کے لحاظ سے دو اقسام پر منقسم کبھی جائے گی۔یعنی ایک تو ایسا منافق جو خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ناقص الایمان ہے اور کسی دھکے کی برداشت نہیں رکھتا اور دوسرے ایسا منافق جو خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق تو ایک حد تک پختہ ایمان رکھتا ہے مگر خلیفہ وقت کے متعلق گو بے شک محض دکھاوے کا ایمان نہیں رکھتا مگر اس قدر کمزور ہے کہ ذراسی ٹھوکر سے ٹوٹ سکتا ہے۔