مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 306 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 306

مضامین بشیر اندر لے آتی ہے اور وہ کسی برقعہ کا خود باعث زینت ہونا ہے۔ظاہر ہے کہ برقعہ کی غرض وغائت عورت کے بدن اور لباس کی قدرتی اور مصنوعی زینت کو چھپانا ہے۔پس اگر کوئی عورت ایسا برقعہ استعمال کرتی ہے جو اپنی ساخت یا کپڑے کی بناوٹ یا کپڑے کے رنگ وغیرہ کی وجہ سے خود موجب زینت ہے تو وہ یقیناً ایک خلاف اسلام فعل کی مرتکب ہوتی ہے۔جس سے اس کو پر ہیز لازم ہے مگر بدقسمتی سے اس زمانہ میں بعض حلقوں میں ایسے برقعے رائج ہو رہے ہیں جو یقینا قابل اعتراض حد کے اندر آتے ہیں۔یعنی کوئی برقعہ تو اپنی ساخت کے لحاظ سے اور کوئی برقعہ اپنے کپڑے کی بناوٹ کے لحاظ سے اور کوئی برقعہ اپنے رنگ کی شوخی کے لحاظ سے قابل اعتراض ہو جاتا ہے اور اس طرح جو چیز زینت کو چھپانے کے لئے مقرر کی گئی ہے وہ خود زینت کا باعث بن جاتی ہے۔یہ میلان ابتداء میں ان غیر احمدی مستورات میں شروع ہوا جو ایک طرف تو اپنے واسطے پردہ کی حدود سے آزادی چاہتی تھیں اور دوسری طرف ظاہر داری کے طور پر اسلام کا نام بھی رکھنا چاہتی تھیں۔اس طرح انہوں نے اپنے لئے گویا ایک بین بین کی صورت تجویز کر لی تا کہ پردہ بھی رہے اور زینت کا اظہار بھی ہو جائے اور پھر ان مستورات کے اثر کے ماتحت بعض احمدی مستورات میں بھی یہ مرض پہونچ گیا۔لیکن ظاہر ہے کہ ایسا برقعہ جو خود زینت کا باعث ہو قطعاً اسلامی پردہ کے مفہوم کو پورا نہیں کرتا بلکہ اس کے سراسر خلاف ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ عورت ایک خوبصورت قمیص زیب بدن کرے اور پھر اس قمیص کی خوبصورتی کو چھپانے کے لئے اس کے اوپر ایک اور خوبصورت قمیص پہن لے۔بہر حال اس قسم کا زیبائشی برقعہ قطعاً اسلامی تعلیم کے خلاف ہے اور ہماری مستورات کو اس قسم کے برقعوں سے بالکل اجتناب کرنا چاہیئے۔ہم ان کے برقعوں کی ساخت اور کپڑے اور رنگ میں دخل نہیں دیتے لیکن اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دے سکتے کہ برقعہ جو زینت کے چھپانے کے لئے مقرر ہے وہ خود زینت کا باعث بن جائے کیونکہ ایسا طریق اسلامی تعلیم کے صریح خلاف ہے اور مزید برآں اس میں یہ بھی خطرہ ہے کہ برقعہ کے اندر بھی عورتوں کی ایک حد تک شناخت ہو جاتی ہے اور گو افراد کا پتہ نہ چلے مگر اس حد تک پتہ چل جاتا ہے کہ یہ عورت کس طبقہ سے تعلق رکھتی ہے۔حالانکہ ایسا علم بعض حالات میں فتنہ اور شرارت کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔اسی اصول کے ماتحت گزشتہ ایام میں نظارت تعلیم و تربیت کی تحریک پر لجنہ اماءاللہ قادیان نے یہ قانون بنایا تھا کہ آئندہ لجنہ کی کوئی ممبر سفید اور سیاہ رنگ کے سوار کسی قسم کا برقعہ استعمال نہ کرے اور ان دورنگوں میں بھی یہ شرط ملحوظ رہے کہ برقعہ کا کپڑا اپنی بناوٹ وغیرہ کے لحاظ سے اپنے اندر کسی قسم کی سجاوٹ نہ رکھتا ہو بلکہ بالکل سادہ ہو جس کی غرض محض زینت چھپانا ہو۔مجھے افسوس ہے کہ لجنہ نے