مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 304 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 304

مضامین بشیر ۳۰۴ اصلاح کے لئے اٹھتی ہے اسے اس قسم کے اعتراضوں کا نشانہ بنا پڑتا ہے مگر اس اصلاحی تغیر میں ایک خطرہ بھی پیدا ہو رہا ہے۔جس کا انسداد ضروری ہے اور میرا یہ مختصر نوٹ اسی خطرہ کے ایک پہلو سے ہے۔تعلق رکھتا ہے۔وہ خطرہ یہ ہے کہ اس اصلاحی قدم کے نتیجہ میں احمدی مستورات کا ایک قلیل حصہ اس عام قاعدہ کے ماتحت کہ انسان ایک انتہا سے ہٹ کر دوسری انتہا کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔پردہ کے معاملہ میں کسی قدرنا واجب آزادی کی طرف جھک رہا ہے۔بدقسمتی سے اس میلان کونئی روشنی کی بے پردگی کی زبر دست رونے اور بھی تقویت دے دی ہے۔اس لئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ جماعت کا سمجھدار طبقہ اس نقص کی فوری اصلاح کی طرف توجہ دے تا کہ ایسا نہ ہو کہ جماعت کا کوئی حصہ ایک کم خطرہ والے افراط سے نکل کر ایک زیادہ خطرناک تفریط کے گڑھے میں جا گرے۔اصل اسلامی پرده اصل اسلامی پردے کا خلاصہ تین باتوں میں آجاتا ہے۔اول : غیر محرم مردوں کے سامنے عورت اپنے بدن اور لباس وغیرہ کی زینت کو چھپا کر رکھے۔سوائے ایسے حصوں کے جن کا چھپا نا عملاً ناممکن ہو اور زینت کے مفہوم میں قدرتی اور مصنوعی زینت ہر دو داخل ہیں۔دوم : غیر محرم مرد و عورت ایک دوسرے کی طرف نظر نہ اٹھا ئیں بلکہ جب بھی ایک دوسرے کے سامنے ہوں تو اپنی نظروں کو نیچا رکھیں۔سوم غیر محرم مرد و عورت ایک دوسرے کے ساتھ خلوت میں اکیلے ملاقات نہ کریں۔اسلامی پردہ اور احمدی مستورات ان تین اصولی حد بندیوں کے سوا اسلام پردہ کے متعلق کوئی حد بندی نہیں لگا تا اور ایک مسلمان عورت ان ہر سہ حد بندیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہر قسم کے جائز کاروبار اور جائز سیروسیاحت اور دوسرے لوگوں کے ساتھ جائز اختلاط میں حصہ لے سکتی ہے اور یہ ایک بہت ہی شکر کا مقام ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی لائی ہوئی تعلیم کے ماتحت احمدی مستورات ان ہرسہ پابندیوں کو بالعموم خوب اچھی طرح سمجھتی اور ان پر دلی شوق کے ساتھ عمل کرتی ہیں اور ہم بڑے فخر کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کے فضل سے ہم اس معاملہ میں دوسروں کے لئے ایک صحیح اسلامی نمونہ ہیں۔یعنی