مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 24 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 24

مضامین بشیر ۲۴ کے متعلق اچھی رائے رکھتا تھا مگر اب مجھے بڑے افسوس کے ساتھ اس رائے میں ترمیم کرنی پڑی ہے۔مجھے یاد نہیں کہ میری ذات کی طرف سے ڈاکٹر صاحب کو آج تک کبھی کوئی وجہ شکایت کی پیدا ہوئی ہو۔پس میں ڈاکٹر صاحب کے اس رویہ کو اصول انتقام کے ماتحت لا کر بھی قابل معافی نہیں سمجھ سکتا۔میں انسان ہوں اور انسانوں میں سے بھی ایک کمزور انسان اور مجھے ہرگز یہ دعویٰ نہیں کہ میری رائے یا تحقیق غلطی سے پاک ہوتی ہے۔اور نہ ایسا دعویٰ کسی عقل مند کے منہ سے نکل سکتا ہے۔میں نے اس بات کی ضرورت سمجھ کر کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات جلد ضبط تحریر میں آجانے چاہئیں، محض نیک نیتی کے طور پر سیرت المہدی کی تصنیف کا سلسلہ شروع کیا تھا۔اگر اس میں میں نے کوئی غلطی کی ہے یا کوئی دھوکا کھایا ہے تو ہر شخص کا حق ہے کہ وہ مجھے میری غلطی پر متنبہ کرے تا کہ اگر یہ اصلاح درست ہو تو نہ صرف میں خود آئیندہ اس غلطی کے ارتکاب سے محفوظ ہو جاؤں بلکہ دوسرے لوگ بھی ایک غلط بات پر قائم ہو جانے سے بچ جائیں لیکن یہ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ بلا وجہ کسی کی نیت پر حملہ کرے اور ایک نہایت درجہ دل آزار اور تمسخر آمیز طریق کو اختیار کر کے بجائے اصلاح کرنے کے بغض و عداوت کا ختم ہوئے۔اس قسم کے طریق سے سوائے اس کے کہ دلوں میں کدورت پیدا ہوا اور کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔مجھے افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے زور قلم کا بہت غیر مناسب استعمال کیا ہے جسے کسی مذہب وملت کا شرافت پسند انسان بھی نظر استحسان سے نہیں دیکھ سکتا۔میں ڈاکٹر صاحب کے مضمون سے مختلف عبارتیں نقل کر کے ان کے اس افسوسناک رویہ کو ثابت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن بعد میں مجھے خیال آیا کہ جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا۔اب ان عبارتوں کو نقل کر کے مزید بدمزگی پیدا کرنے سے کیا حاصل ہے۔پس میری صرف خدا سے ہی دعا ہے کہ وہ ڈاکٹر صاحب کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ میرے ان الفاظ کو نیک نیتی پر محمول سمجھ کر اپنے طرز تحریر میں آئندہ کے لئے اصلاح کی طرف مائل ہوں اور ساتھ ہی میری خدا سے یہ بھی دعا ہے کہ وہ میرے نفس کی کمزوریوں کو بھی عام اس سے کہ وہ میرے علم میں ہوں یا مجھ سے مخفی ، دور فرما کر مجھے اپنی رضا مندی کے رستوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین اللهم آمین اصل مضمون کے شروع کرنے سے قبل مجھے ایک اور بات بھی کہنی ہے اور وہ یہ کہ علاوہ دل آزار طریق اختیار کرنے کے ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں غیر جانبدارانہ انصاف سے بھی کام نہیں لیا۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ تنقید کرنے والے کا یہ فرض ہے کہ وہ جس کتاب پر ریویو کر نے لگا ہے، اس کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالے یعنی اچھی اور بری دونوں باتوں کو اپنی تنقید میں شامل کر کے کتاب کے حسن و فتح کا ایک اجمالی ریویولوگوں کے سامنے پیش کرے تا کہ دوسرے لوگ اس کتاب کے ہر