مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 299 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 299

۲۹۹ مضامین بشیر ہماری پھوپھی صاحبہ مرحومہ اور نکاح والی پیشگوئی احباب کو’الفضل‘ کے ذریعہ خبر مل چکی ہے کہ ہماری پھوپھی عمر بی بی صاحبہ جو محمدی بیگم صاحبہ کی والدہ تھیں۔۳۱ جنوری ۱۹۳۸ء کو زائد از نوے سال کی عمر میں فوت ہو کر بہشتی مقبرہ مین دفن ہو چکی ہیں۔مرحومہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حقیقی چچا مرزا غلام محی الدین صاحب کی لڑکی تھیں مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے عقد میں آئی تھیں اور جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق ۱۸۹۲ء میں مرزا احمد بیگ کی وفات ہوئی تو اس وقت سے وہ بیوہ چلی آتی تھیں اور انہوں نے اپنی آخری عمر قادیان میں گزاری تھی۔خاوند کی زندگی میں تو وہ سلسلہ کی مخالف تھیں اور اس کے بعد بھی کئی سال تک عملاً مخالف رہیں لیکن اپنی زندگی کے آخری ایام میں یعنی غالباً ۱۹۲۱ ء میں انہوں نے حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی اور اس کے بعد ۱۹۳۱ء میں جب کہ ہماری تائی صاحبہ مرحومہ فوت ہوئیں ( ہماری تائی صاحبہ اور پھوپھی صاحبہ حقیقی بہنیں تھیں) تو پھوپھی صاحبہ مرحومہ نے بڑی خواہش اور اصرار کے ساتھ وصیت کر دی جو ان کے کہنے پر میں نے خود اپنے ہاتھ سے لکھی تھی۔اور الحمد للہ کہ پھوپھی صاحبہ اب بہشتی مقبرہ میں پہنچ چکی ہیں۔جو ایک احمدی مومن اور مومنہ کے لئے بہترین انجام ہے۔مرحومہ کو میرے ساتھ خاص تعلق تھا۔اگر مجھے ان کے پاس جانے میں کبھی زیادہ دیر ہو جاتی تو وہ خود کسی کو کہہ کر مجھے بلوالیا کرتی تھیں اور میرے ساتھ ہمیشہ بزرگانہ بے تکلفی سے گفتگو فرمایا کرتی تھیں۔میں بھی انہیں علاوہ رشتہ میں بزرگ ہونے کے اس وجہ سے بھی خاص عزت اور محبت کی نظر سے دیکھتا تھا کہ وہ نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام والی نسل کی آخری یادگار تھے بلکہ آپ کی ایک مشہور پیشگوئی کے رحمت والے حصہ کی نشانی بھی تھیں۔دراصل محمدی بیگم صاحبہ والی پیشگوئی کے دو حصے تھے۔ایک تو غضب الہی کا حصہ تھا اور دوسرا خدا کی رحمت کا حصہ تھا اور مجھے ہمیشہ اس خیال سے خوشی ہوتی تھی اور ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے آخری وقت میں آ کر ہماری پھوپھی صاحبہ کو رحمت والے حصہ کے لیے الگ کر لیا تھا ورنہ پیشگوئی کے وقت ان کا قدم دوسرے رستہ پر تھا۔فالحمد للہ علی ذالک