مضامین بشیر (جلد 1) — Page 279
۲۷۹ مضامین بشیر کی کوشش کریں۔یہ خط ایک پرائیویٹ خط ہے اور اگر میں اخبار کے لئے مضمون لکھتا تو شائد دوسرے رنگ میں لکھتا لیکن بہر حال چونکہ اصول ایک ہی ہے۔میں اسے دوستوں کے فائدہ کے لئے الفضل میں شائع کروا رہا ہوں۔اگر خدا نے چاہا تو کسی دوسرے وقت اس موضوع پر زیادہ بسط کے ساتھ لکھوں گا۔وما توفیقی الا بالله العظيم خط درج ذیل ہے :- بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وَعَلى عبده المسيح الموعود عزیزم مظفر احمد سلمه السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ قادیان ۷فروری ۱۹۳۸ء تمہارے خط سے عزیز سعید احمد مرحوم کی بیماری اور وفات کے حالات کا تفصیلی علم حاصل ہوا۔اس میں شبہ نہیں کہ عزیز سعید احمد کی وفات نہایت درجہ تلخ حالات میں ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے سب عزیزوں کے دل پر بہت بھاری بوجھ ہے اور میں نے تو خصوصیت کے ساتھ اس حادثہ کی تلخی کو بہت زیادہ محسوس کیا ہے۔کیونکہ علاوہ عام رشتہ کے میرے ساتھ گزشتہ تین سال میں سعید مرحوم کا خاص تعلق رہا تھا اور میں نے اس صدمہ کو اسی طرح محسوس کیا ہے جیسے کہ ایک باپ کو اپنے بیٹے کا صدمہ ہوتا ہے مگر تمہارے اس خط میں ایک فقرہ ایسا ہے جسے میں دینی تربیت کے لحاظ سے یونہی بلا نوٹس نہیں چھوڑ سکتا۔وہ فقرہ اس مفہوم کا ہے کہ تمہیں سعید کی وفات پر انتہائی غم والم کی حالت میں خیال آیا کہ بیسیوں ایسے آدمی ہیں جن کی موت کسی شخص کے لئے کسی خاص تکلیف کا باعث نہیں ہوتی لیکن موت آئی تو بے چارے سعید کو ہم سے جدا کرنے کے لئے اور وہ بھی اس جوانی کی عمر میں وہ اور اس غریب الوطنی کی حالت میں الخ۔یہ فقرہ جیسا کہ خود تم نے محسوس کیا ہے اپنے اندر ایک گلہ کا رنگ رکھتا ہے اور گو مجھے خوشی ہے کہ تم نے اسے دبا دیا اور اس خیال کا اظہار نہیں کیا اور جو خراب خیال دل کے اندر ہی دبایا جائے۔وہ گناہ نہیں ہوتا بلکہ دبا دینے کی وجہ سے ایک نیکی شمار ہوتا ہے لیکن پھر بھی چونکہ تمہارے دل میں اس قسم کا خیال آیا تھا۔اس لئے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ تربیتی اور تعلیمی لحاظ سے اس کے متعلق