مضامین بشیر (جلد 1) — Page 278
مضامین بشیر ۲۷۸ صدمات میں اوہام باطلہ سے بچنے کا طریق بسا اوقات دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ مصائب اور صدمات میں طرح طرح کے اوہام باطلہ کا شکار ہونے لگتے ہیں اور بعض اوقات ایسے خیالات کا اظہار کرنے لگ جاتے ہیں یا اگر اظہار نہیں کرتے تو کم از کم ایسے خیالات کو دل میں جگہ دے دیتے ہیں جن سے خدا تعالیٰ کے متعلق نعوذ باللہ بدظنی اور بدگمانی کا رستہ کھلتا ہے اور اندر ہی اندر ایمان کو گھن لگ جاتا ہے۔اس قسم کے خیالات کا اصل باعث تو کسی صدمہ پر صبر ورضا کو ہاتھ سے دے دینا ہوتا ہے لیکن اکثر اوقات ان خیالات کی بنیاد لاعلمی پر بھی ہوتی ہے۔یعنی لوگ موت وحیات کے قانون کو سمجھنے کے بغیر خدا کے فعل کے متعلق رائے قائم کرنے لگ جاتے ہیں اور چونکہ صدمہ کا بھی غلبہ ہوتا ہے۔اس لئے اس رائے زنی میں کہیں کے کہیں نکل جاتے ہیں۔احباب کو معلوم ہے کہ چند دن ہوئے ولایت میں ہمارا ایک عزیز بچہ مرزا سعید احمد فوت ہو گیا۔وفات جو ایک بہت لمبی جدائی کا نام ہے۔طبعاً اپنے اندر ایک انتہائی تلخی کا عنصر رکھتی ہے مگر جن حالات میں عزیز مرحوم کی وفات ہوئی انہوں نے اس کو خاص طور پر تلخ کر دیا تھا۔اور اس تلخی کا احساس طبعاً ہمارے سارے خاندان کو تھا اور ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے صبر کا حکم دیا ہے اور الحمد للہ کہ ہم نے صبر کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اس خدائی امتحان کو رضا کے ساتھ قبول کیا ہے۔احباب کو یہ بھی معلوم ہے کہ آج کل میرا اپنا بچہ عزیز مرزا مظفر احمد بھی ولایت میں تعلیم پا رہا ہے۔سعید احمد مرحوم کے ساتھ مظفر احمد کا بہت گہرا تعلق تھا۔یعنی اول تو قریبی رشتہ دار پھر دوست ، پھر ہم عمر ، پھر ہم جماعت اور پھر دونوں وطن سے دور اور اپنے دوسرے عزیزوں کی نظروں سے اوجھل۔ان حالات میں مظفر کو طبعا سعید کی وفات کا انتہائی صدمہ ہوا۔اپنے اس صدمہ کے اظہار کے لئے اس نے مجھے ایک خط لکھا ہے جو درد و غم کے جذبات سے معمور ہے اور گو اس خط میں مظفر نے خدا کے فضل سے صبر و رضا کو نہیں چھوڑ ا مگر ایک فقرہ وہ ایسا لکھ گیا جو مجھے کھٹکا ہے۔بلکہ خود مظفر کو بھی کھٹکا ہے۔کیونکہ وہ لکھتا ہے کہ مجھے یہ خیال آیا تھا لیکن پھر میں نے اسے دل میں ہی دبا لیا۔بہر حال میں نے اس کی تربیت کے خیال سے اسے اس ڈاک میں ایک خط لکھا ہے جس کا متعلقہ حصہ ناظرین کے فائدہ کے لئے الفضل میں بھجوا رہا ہوں تا کہ ہمارے دوست مصائب و آلام میں اوہام باطلہ سے محفوظ رہنے