مضامین بشیر (جلد 1) — Page 276
مضامین بشیر مکرمی مرزا عزیز احمد صاحب نے بہت صبر سے کام لیا ہے اور عزیزم مظفر احمد صاحب سلمہ و حضرت مرزا ناصر احمد صاحب و مکرمی در د صاحب اور مولانا شمس صاحب نے ہمدردی کا پورا پورا حق ادا کیا۔جزاهم الله خيرا - حضرت مرزا ناصر احمد صاحب سلمہ کی اگر چہ خود طبیعت علیل تھی اور۔ڈاکٹر کی طرف سے آرام کرنے کی تاکید تھی مگر پھر بھی وہ عزیز کے پاس کثرت سے تشریف لے جاتے اور بیماری کی حالت میں بھی ملنے کے لئے چلے جاتے تھے اور عزیزم مظفر احمد صاحب سلمہ تو روزانہ با قاعدہ جاتے اور جو چیزیں عزیز چاہتا وہ اس کے لئے مہیا کرتے۔چنانچہ عزیز مرحوم نے عزیزم مظفر احمد صاحب کی اس خدمت گزاری کے متعلق اپنی خوشی کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ میں نے عمو صاحب کو ( یعنی آپ کو ) تم سے تمہاری ہی تعریف کا خط لکھوانا ہے۔درد صاحب تو دن رات عزیز مرحوم کی ہمدردی میں مصروف رہے اور عزیز کے معالجہ میں اور ہر طرح آرام پہنچانے کی کوشش میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔مکر می شمس صاحب بھی کثرت سے عزیز مرحوم کی خبر گیری کے لئے جاتے رہے اور دوسرے دوست بھی عیادت کے لئے ہسپتال میں جاتے رہے۔اگر چہ ڈاکٹر کی طرف سے ہدایت تھی کہ زیادہ آدمیوں کا آنا اچھا نہیں ہے۔نو مسلموں میں سے مسٹر تھل نے عزیز مرحوم کے ساتھ خاص محبت اور ہمد ردی کا اظہار کیا اور اسلامی اخوت کا رنگ دکھایا۔مسٹر فیولنگ نے بھی بہت اظہار محبت کیا اور کئی بار عزیز مرحوم کی عیادت کے لئے گیا اور پھل بھی عزیز کے لئے لے جاتا رہا۔فجزاهم الله خيرا الجزا۔مکرمی در دصاحب کو خاندان نبوت کے ساتھ خاص محبت ہے اور وہ اس خاندان مبارک کے تمام افراد کے ایک جان نثار غلام ہیں۔عزیز مرحوم کی زندگی میں تو انہوں نے عزیز کی ہر طرح خدمت کی ہی تھی عزیز کی وفات کے بعد بھی آپ فوراً اس کوشش میں مصروف ہو گئے کہ عزیز مرحوم کا جنازہ قادیان پہنچانے کا انتظام کیا جائے۔چنانچہ وہ اس کوشش میں کامیاب بھی ہو گئے۔یہ سب کام اُن سے وہ محبت کرواتی ہے جو ان کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے ساتھ مرکوز ہے اور خدا تعالیٰ نے ان کو ان خدمات کی سرانجام دہی کے لئے قابلیت بھی خاص طور پر بخشی ہے۔فجزاه الله خيراالجزا اس موقع پر نو مسلم خواتین نے بھی عزیز مرحوم کے ساتھ ہمدردی اور محبت کا اظہار کیا۔چنانچہ بعض ان میں سے ہسپتال میں عزیز کی عیادت کے لئے بھی گئیں اور جب مکرمی مرزا عزیز احمد صاحب تشریف لائے تو ایک نومسلمہ خاتون نصیرہ بار بار مجھے کہتی تھی کہ در دصاحب سے کہنا کہ جب مرز اسعید صاحب اپنے والد صاحب کے ہمراہ ہندوستان جانے لگیں تو مجھے بھی اطلاع کریں تا میں اس وقت