مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 275 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 275

۲۷۵ مضامین بشیر اطلاع دی اور پھر حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو بھی اطلاع دی اور پھر حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے فرمایا کہ میں ابھی ہسپتال جاتا ہوں اور فرمایا مرزا مظفر احمد صاحب کو اطلاع کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اور مرزا صاحب پہلے سے وہاں پہنچے ہوئے ہوں گے۔درد صاحب نے بھی حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو فون کیا کہ فورا بذریعہ موٹر ہسپتال میں پہنچ جائیں اور مجھے بھی فون کیا ہم سب جلدی ہسپتال میں پہنچ گئے۔اس وقت عزیز کی حالت بہت ہی کمزور تھی اور غنودگی طاری تھی۔جب ہوش آتا تو اپنے والد صاحب کی طرف آنکھیں پھیر کر دیکھتے جو ان کے سر کی طرف ایک کرسی میں سر نیچے کر کے بیٹھے ہوئے تھے اور جب مرزا صاحب سر اُٹھا کر دیکھتے تو عزیز اپنی آنکھیں پھیر لیتا۔اسی طرح عزیز مرحوم دوسروں کی طرف بھی آنکھیں اٹھا کر دیکھ لیتا۔پانچ بجے شام کے قریب عزیز نے کہا کہ مجھے نیند آرہی ہے اب آپ جائیں ( تا میں سو جاؤں ) اس پر سب اٹھ کر چلے آئے مگر مگر می مرزا عزیز احمد صاحب تھوڑی دیر پیچھے ٹھہر گئے۔اس وقت عزیز کے ہاتھ کپڑے سے باہر تھے مرزا صاحب نے ان کو اندر کیا تب عزیز نے اپنے ابا جان کو تنہا دیکھ کر ان کے ہاتھ چومے اور کہا کہ ابا جی فکر نہ کرنا۔( یہ بھی عزیز کا کمال ضبط تھا کہ دوسروں کے سامنے اپنے جذبات کو ظاہر نہ کیا ) مکرمی مرزا صاحب نے فرمایا کہ فکر تو صرف مجھے ہی نہیں بلکہ قادیان میں جو ہیں ان کو بھی فکر ہے۔تم اپنی بیماری کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرو۔عزیز نے جواب دیا کہ میں مقابلہ کر رہا ہوں۔عزیز اس وقت نہایت نازک حالت میں اپنی زندگی کی آخری گھڑیوں میں تھا مگر اس وقت بھی عزیز نے اپنے والد صاحب کو تسلی دی۔اللہ تعالیٰ عزیز پر رحم فرما دے اور اپنے قرب میں جگہ عطا فرمائے۔آمین اس کے بعد درد صاحب نے اور مکرمی مرزا صاحب نے مجھے مکان پر بھیج دیا۔پھر آٹھ بجے کے قریب در دصاحب کا فون آیا کہ ڈاکٹر برل آیا تھا۔وہ عزیز کو اور انجکشن کر گیا ہے تا جو غنودگی کی حالت ہے وہ زیادہ گہری ہو جائے اور عزیز کو تکلیف محسوس نہ ہو اور ہم نے ہسپتال سے متصل ایک ہوٹل میں ایک کمرہ لے لیا ہے کیونکہ ہم ہسپتال میں رات کو نہیں ٹھہر سکتے تھے۔چنانچہ مکرمی مرزا صاحب و حضرت مرزا ناصر احمد صاحب و عزیزم مرزا مظفر احمد صاحب و درد صاحب و مولانا شمس صاحب رات وہاں ہوٹل میں ہی ٹھہرے۔پھر رات کے ڈیڑھ بجے نرس نے ہوٹل میں درد صاحب کو ٹیلیفون پر عزیز کی آخری حالت کی اطلاع دی جب یہ سب وہاں پہنچے تو ایک دو دم باقی تھے۔اور ان کے سامنے عزیز دو بجے کے بعد اس عالم سے رخصت ہوا اور اپنے مولا سے جا ملا۔انا للہ وانا اليه راجعون۔اس کے بعد در دصاحب نے مجھے ٹیلیفون کیا کہ فوراً موٹر لے کر پہنچ جاؤ۔چنانچہ بندہ بھی وہاں پہنچ گیا اور ہم سب صبح تک وہاں رہے۔