مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 274 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 274

مضامین بشیر ۲۷۴ رات میں نے خواب میں حضرت خلیفہ امسیح اوّل رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ہے۔وہ میرے پاس تشریف لائے ہیں اور مجھے دیکھ کر پھر واپس تشریف لے گئے ہیں۔اس کے بعد عزیز سعید نے مجھے کہا شاید میں نے تم کو پہلے نہیں بتایا جس مکان میں میں پہلے رہتا تھا وہاں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی دیکھا تھا۔حضور تشریف لائے ہیں اور حضور کے ساتھ تم ( شیر علی ) ہو۔پہلے میں نے خیال کیا کہ حضرت خلیفتہ امیج اول رضی اللہ عنہ ہیں مگر پھر میں نے دیکھا کہ تم ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام واپس تشریف لے گئے مگر تم میرے بستر ے کے پاس کھڑے رہے اور تمہارے ہاتھ میں کوئی چھوٹی سی چیز ہے۔( عزیز نے کسی چیز کا نام لیا جو میں نے اچھی طرح سمجھا نہیں تھا شائد دیا کہا تھا) اور تم ابھی میرے بسترہ کے پاس کھڑے تھے کہ میری آنکھ کھل گئی۔جب میں بیماری کے دوران میں مرحوم کے پاس جاتا۔اگر کبھی کچھ دیر بیٹھ کر واپس آنے لگتا تو عزیز کہتا کہ اور بیٹھو۔ایک دن عزیزم مرزا مظفر احمد صاحب کو کہا کہ یہ آسٹریلیا کے سیب رکھے ہیں۔شیر علی کو کاٹ کر دو۔جب اٹھنے لگتا تو عزیز مصافحہ کرتا اور دعا کے لئے کہتا۔عزیز میں ضبط کا مادہ بہت تھا۔ابتداء سے عزیز کے دل میں اپنے والد صاحب کو دیکھنے کی خواہش تھی مگر کبھی کھل کر ظاہر نہیں کیا۔کبھی اس طرح اس خواہش کو ظاہر کرتے کہ میں کہتا ہوں اگر ابا جی آجائیں تو اچھا ہے۔اس طرح لندن کو ہی دیکھ جائیں گے۔جب آپ کے ایک خط میں یہ ذکر پڑھا کہ عزیز کے والد صاحب کے ولایت آنے کی تجویز ہو رہی ہے تو اس وقت تار دلوایا کہ میں بھی چاہتا ہوں کہ وہ آجائیں۔عزیز گویا اپنے والد صاحب کے آنے کے ہی منتظر تھے۔جب پیر کے دن مورخہ ۱۰ جنوری کو مکرمی مرزا عزیز احمد صاحب عشاء کے وقت لنڈن پہنچے تو آتے ہی عزیز کو ملنے کے لئے ہسپتال میں تشریف لے گئے۔جب عزیز کو مل کر چلے آئے تو اس رات ملاقات کے اثر کے نتیجہ میں یا معلوم نہیں کس وجہ سے عزیز کو نیند نہیں آئی۔نیند کے لئے نرس نے انجکشن کر دیا تھا مگر اس رات با وجود انجکشن کے نیند نہ آئی۔صبح جب گیارہ بجے مکرمی مرزا صاحب اور درد صاحب عزیز کو پھر ملنے گئے تو جانے کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ عزیز کو جلدی جلدی سانس آنے کی شکایت پیدا ہوگئی ہے۔اس لئے مرزا صاحب اور در د صاحب جلدی وہاں سے چلے آئے تا عزیز آرام کر سکے۔دوسرے دن بروز بدھ دوپہر کے قریب نئے مکان میں ہسپتال سے ٹیلیفون آیا کہ عزیز کی حالت پہلے سے بہت زیادہ خراب ہو گئی ہے۔درد صاحب مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔میں نے بذریعہ ٹیلیفون درد صاحب کو