مضامین بشیر (جلد 1) — Page 273
۲۷۳ مضامین بشیر در مسجد لندن۔۱۵ جنوری ۱۹۳۸ء۔بخدمت مخدومی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے ایدہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ عزیزم مرزا سعید احمد مرحوم کی وفات کے درد ناک حادثہ سے سخت افسوس ہوا۔انالله وانا اليه راجعون اللہ تعالیٰ مرحوم پر بیشمار رحمتیں اور فضل نازل فرمائے اور اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین۔مرحوم نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی خوبیوں سے متصف تھا۔اپنے خاندان کی خصوصیات اور اپنے آباؤ اجداد کے اخلاق فاضلہ اس میں خاص طور پر نمایاں تھے۔بیماری میں بھی اس نے حیرت انگریز نمونہ دکھایا۔ہسپتال میں آنے سے پہلے جس مکان میں رہتا تھا وہاں ایک ڈاکٹر اس کا علاج کرتا تھا۔اس نے درد صاحب کے کہنے پر بلغم کا معائنہ کیا۔جب وہ اس کے بعد مرحوم کے پاس آیا اس وقت ڈاکٹر کیپٹن عطاء اللہ صاحب مع اہلیہ صاحبہ اور بندہ عزیز مرحوم کے پاس تھے اس نے علیحدہ ڈاکٹر عطاء اللہ صاحب کو نتیجہ بتایا اور سینہ کو ٹسٹ کیا۔اس وقت عزیز کو اپنی بیماری کی حقیقت معلوم ہوئی مگر اس کے چہرہ پر کوئی تغیر نہ آیا۔عزیز نے اپنے کمرہ میں ٹیلیفون لگوایا ہوا تھا۔ڈاکٹر کے چلا جانے کے تھوڑی دیر بعد عزیز نے در دصاحب کو ٹیلیفون کیا اور بتایا کہ ڈاکٹر ابھی آیا تھا وہ آپ کو ٹیلیفون کرے گا۔کچھ خراب خبر ہی بتا گیا ہے۔اس کے بعد عزیز نے مجھے کہا کہ مجھے پہلے ہی شبہ تھا۔ایک جرمن ماہر نے بھی مجھے دیکھا تھا۔درد صاحب نے فوراً ایک بہترین ماہر کے ساتھ وقت مقرر کیا۔دوسرے دن تین بجے ڈاکٹر عطاء اللہ صاحب کے ہمراہ درد صاحب عزیز کو ڈاکٹر برل کے پاس لے گئے جو امراض سینہ کا بہترین ماہر سمجھا جاتا ہے۔باوجو د سخت کمزوری کے عزیز نے پسند نہ کیا کہ اس کو اٹھا کر نیچے لے جائیں۔خود ہی دوسروں کا سہارا لے کر سیڑھیوں سے نیچے اُترا۔ہسپتال میں بھی کبھی گھبراہٹ یا بے چینی کا اظہار نہ کیا بلکہ نہایت اطمینان کی حالت میں رہتا اور جب بھی ملنے جاتے مرحوم کو بالکل خوش دیکھتے اور ہمیشہ خندہ پیشانی سے پیش آتا۔نرسوں کو بھی اس کے حسن اخلاق کی وجہ سے اس کے ساتھ خاص انس اور ہمدردی ہوگئی تھی۔بیماری کے ایام میں ایک دن جبکہ میں عزیز کے پاس گیا تو عزیز نے بتایا کہ آج