مضامین بشیر (جلد 1) — Page 272
مضامین بشیر ۲۷۲ پیر کے دن شام کے بعد مرزا عزیز احمد صاحب کے استقبال کے لئے میاں ناصر احمد صاحب اور مظفر احمد صاحب کے ہمراہ ہوائی جہاز کے اترنے کی جگہ میں گیا۔جہاز لیٹ تھا۔مرزا صاحب نہایت آرام کے ساتھ یہاں پہنچ گئے اور نو بجے کے قریب ہم ہوٹل میں پہنچے۔ہوٹل میں اسباب رکھ کر ہسپتال گئے۔ہم نے یہ تجویز کی کہ میاں ناصر اور مظفر اور میں سب ان کے ساتھ جائیں تا کہ سعید اور خود مرزا صاحب جذبات پر قابورکھ سکیں اور سعید کی طبیعت میں زیادہ جذباتی ہیجان نہ پیدا ہو۔آدھ گھنٹہ سعید کے پاس بیٹھ کر واپس آگئے۔۔۔۔۔۔دوسرے دن صبح ساڑھے گیارہ بجے سعید کی خواہش کے مطابق مرزا صاحب اور ہم پھر ہسپتال میں گئے۔ہمیں دیکھتے ہی سعید کا دم جلدی جلدی آنے لگا۔اس لئے اس خیال سے کہ اسے آرام آجائے تو پھر آئیں گے ہم جلدی واپس آگئے۔پھر چار بجے کے قریب گئے اور تھوڑی دیر بیٹھے رہے مگر وہی حال تھا۔بدھ کے روز دو پہر کے قریب ہسپتال والوں کا فون آیا کہ سعید کی حالت خراب ہے۔مجھے اس وقت سخت تکلیف تھی مگر سب کو اطلاع دی اور حضرت مولوی شیر علی صاحب، مرزا عزیز احمد صاحب اور میاں ناصر احمد صاحب اور شمس صاحب اور میں ہسپتال پہنچ گئے۔مظفر پہلے سے پہنچا ہوا تھا۔سعید کی حالت بہت خراب تھی۔ڈاکٹروں کوفور بلا کر دکھایا مگر حالت نہ سمبھلی۔ہم ساری رات وہاں رہے اور رات کے دو بجکر دس منٹ پر سعید کا انتقال ہوگیا۔انالله وانا اليه راجعون۔۔صبح جا کر میں ہسپتال سے ٹریفکیٹ لایا اور پھر رجسٹرار کے پاس جا کر ضروری رپورٹ دی۔اور ہیرڈ کے ساتھ انتظام کیا کہ وہ سعید کے جسم کو امبام کر دے۔یعنی ہندوستان پہنچانے کے لئے ضروری مصالحہ لگا کر محفوظ کر دے۔۔۔۔۔۔سعید کے فوٹو کا بھی انتظام کیا حضرت مولوی شیر علی صاحب کا خط در دصاحب کے خط کے علاوہ خود میرے نام بھی حضرت مولوی شیر علی صاحب اور شمس صاحب کے خطوط موصول ہوئے ہیں اور چونکہ حضرت مولوی صاحب کے خط میں سعید کے آخری حالات اکٹھی صورت میں بیان کئے گئے اور بعض دوسرے ضروری کوائف بھی درج ہیں۔اس لئے ان کا خط درج ذیل کرتا ہوں : -