مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 267 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 267

۲۶۷ مضامین بشیر باپ بیٹے کی ملاقات جاتے ہی عزیز سعید احمد کے پاس ہسپتال میں پہنچے۔عزیز بہت کمزور ہور ہا تھا اور گو ہوش وحواس اچھی طرح قائم تھے اور باپ بیٹے میں معمولی باتیں ہوئیں مگر بیمار کی تکلیف اور کوفت کے خیال سے مرزا عزیز احمد صاحب اس کے پاس زیادہ نہیں ٹھہرے اور نصف گھنٹہ کے بعد عزیز سے رخصت ہو کر قریب کے ہوٹل میں تشریف لے آئے جہاں بوجہ اس کے کہ خود ہسپتال کے اندر کسی کو ٹھہرنے کی اجازت نہیں ہوتی ان کے لئے انتظام کیا گیا تھا۔اس رات عزیز مرحوم کو ساری رات با وجود نیند کی دوائی کے نیند نہیں آئی اور گھبراہٹ اور بے خوابی کی حالت رہی۔جس کی وجہ غالبا وہ اعصابی دھکا تھا جو اسے اپنی موجودہ حالت میں باپ سے ملنے سے طبعا لگا ہو گا۔دوسرے دن گیارہ بجے صبح کو جب عزیز سعید احمد کو ملنے کے لئے اس کے والد صاحب دوبارہ گئے تو اس کے بعد جلد ہی اسے جلدی جلدی سانس آنا شروع ہو گیا۔اور تنفس اکھڑ گیا اور تیسرے دن یعنی بدھ کے روز تو حالت بہت نازک ہو گئی اور مرحوم کو ایک قسم کی غنودگی سی رہنے لگی۔اس حالت میں بھی جب مرزا عزیز احمد صاحب اس کے پاس گئے تو ایک تنہائی کا موقع پا کر مرحوم نے اپنے ابا جان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر چوما اور کہا ابا جی فکر نہ کرنا۔وفات بس اس کے بعد عزیز سعید احمد نہیں بول سکا کیونکہ کمزوری بہت تھی اور اس کے ساتھ غنودگی بھی تھی اور ڈاکٹر نے بھی آرام کے خیال سے مزید غنودگی کی دوائی دے رکھی تھی۔یہی غنودگی کی حالت وفات تک جاری رہی۔اور بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو صبح سوا دو بجے کے قریب عزیز کی روح جسد عصری سے پرواز کر کے اپنے مالک حقیقی کے پاس پہنچ گئی۔انا لله وانا اليه راجعون ونرضى بما يرضى به الله نہائت تلخ جدائی موت تو ہر انسان کے لئے مقدر ہے اور ایک اسلام واحمدیت کی فضا میں تربیت یافتہ شخص ہر صدمہ میں رضا کے سبق کو مقدم رکھتا ہے اور ہم بھی خدا کے فضل سے اس سبق کو نہیں بھولے مگر جن حالات میں عزیز مرحوم کی وفات ہوئی ہے انہوں نے اس کی جدائی کو بہت ہی تلخ بنا دیا ہے۔نوجوان