مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 266 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 266

مضامین بشیر ۲۶۶ اطلاع کے آنے پر فوراً یہ ہدایت بھجوائی گئی کہ عزیز سعید احمد کو کسی ماہر ڈاکٹر کو دکھایا لیا جائے مگر چونکہ عزیز مرحوم اپنی طبیعت کے لحاظ سے اپنے لئے کسی خاص انتظام کو پسند نہیں کرتا تھا۔اس لئے یہ ڈاکٹری امتحان نومبر کے آخر تک ملتوی ہوتا گیا اور اس دوران میں عزیز بطور خود ایک عام ڈاکٹر سے علاج کراتا رہا اور ہر طرح خوش اور تسلی یافتہ تھا اور درمیان میں بعض اوقات طبیعت اچھی بھی ہو جاتی رہی۔تشویشناک حالت نومبر کے آخر میں جب ایک ماہر ڈاکٹر نے عزیز سعید احمد کا ایکس رے کے ذریعہ امتحان کیا تو معلوم ہوا کہ عزیز کو سخت قسم کی جلد جلد بڑھنے والی سل ہے اور یہ کہ بیماری کافی ترقی کر چکی ہے۔اس پر سخت تشویش ہوئی اور عزیز سعید احمد کوفور اور دصاحب نے لنڈن کے مشہور برائٹن ہسپتال میں داخل کرا کے علاج شروع کرا دیا مگر اس وقت گو ظاہری طور پر حالت ایسی خراب نہیں تھی مگر بیماری اس حد تک پہونچ چکی تھی کہ شروع سے ہی ڈاکٹر نے مرض کو لاعلاج قرار دے دیا تھا۔حضرت امیر المومنین کے مشورہ کے ماتحت یہاں سے تار بھجوائی گئی کہ اگر حالت سفر کے قابل ہو تو فوراً ہندوستان بھجوانے کا انتظام کیا جائے مگر ڈاکٹر نے اس کی اجازت نہیں دی۔اس لئے نا چارو ہیں علاج کرایا گیا اور گو ولایت کا بہترین ہسپتال اور بہترین علاج میسر تھا اور درمیان میں کچھ سنبھالے بھی آتے رہے مگر فی الجملہ حالت دن بدن گرتی گئی۔عزیز مرحوم کے والد کی ولایت کو روانگی اس اثناء میں یہ بھی تجویز کی گئی کہ عزیز مرحوم کے والد یعنی عزیز مکرم مرزا عزیز احمد صاحب خود ولایت چلے جائیں اور جب بھی عزیز کی حالت سنبھلے اسے واپس لے آئیں مگر بعض وجوہ سے اس تجویز میں بھی نقصان کے پہلو دیکھے گئے اور اس طرح ۱۹۳۸ء کا ابتداء آ گیا۔اس وقت سارے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ آخری فیصلہ ہوا کہ مرزا عزیز احمد صاحب ہوائی جہاز کے ذریعہ فوراً ولایت تشریف لے جائیں تا کہ اگر عزیز کی حالت سفر کے قابل نہ ہو تو کم از کم وہ اسے دیکھ ہی لیں۔کیونکہ اس عرصہ میں خود مرحوم نے بھی اشارہ کنایہ سے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ میرے ابا جان لنڈن آجائیں تو اچھی بات ہے کیونکہ اس بہانہ سے ان کی سیر بھی ہو جائے گی۔چنانچہ اصل تجویز کو جو سمندر کے رستہ سفر کرنے کی تھی ترک کر کے مرزا عزیز احمد صاحب کے جنوری ۱۹۳۷ء کو کراچی سے بذریعہ ہوائی جہاز روانہ ہوئے اور ۱۰ جنوری کو بروز پیر شام کے بعد لنڈن پہنچ گئے۔: سہواً ۱۹۳۷ ء لکھا گیا ہے، اصل میں ۱۹۳۸ ء ہے۔