مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 265 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 265

۲۶۵ ۱۹۳۸ء مضامین بشیر دوستوں کا شکریہ عزیز سعید احمد مرحوم عزیز سعید احمد کی وفات حسرت آیات کی خبر الفضل میں شائع ہو چکی ہے اور اس پر حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ اور حضرت ام المومنین اور خاکسار اور دیگر افراد خاندان کے نام متعدد دوستوں کی طرف سے ہمدردی کے تار اور خطوط موصول ہوئے ہیں اور ہورہے ہیں۔ہم ان سب دوستوں کے ممنون ہیں جنہوں نے عزیز مرحوم کی بیماری میں عزیز کو اپنی دعاؤں میں یا درکھا اور اس کی وفات پر ہمدردی کا اظہار فرمایا۔فجزاهم الله خيراً بیماری کی ابتدا عزیز سعید احمد جو گو یا رشتہ میں ہمارا پوتا تھا یعنی وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پڑپوتا اور مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے کا لڑکا تھا۔ایک بہت ہی سعید فطرت، شریف مزاج ، ہوشیار اور ہونہار بچہ تھا اور اپنی طبیعت میں صبر وشکر اور ضبط کا خاص مادہ رکھتا تھا۔۱۹۳۴ء میں اس نے پنجاب یونیورسٹی سے بہت اچھے نمبر لے کر بی۔اے پاس کیا اور اسی سال کے آخر میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے ولایت گیا۔جہاں اس نے ۱۹۳۶ء میں لنڈن یونی ورسٹی سے بی۔اے کی سند حاصل کی اور اسی سال یعنی ۱۹۳۶ء میں مرحوم نے آئی۔سی۔ایس کا بھی امتحان دیا مگر چونکہ بی۔اے اور بار کا بوجھ ساتھ تھا۔اس لئے گوا چھے نمبروں پر پاس ہو گیا مگر مقابلہ میں نہیں آسکا لیکن اس ناکامی پر عزیز سعید احمد کو کوئی صدمہ نہیں ہوا کیونکہ جیسا کہ اس نے مجھے اپنے متعد دخطوں میں خود لکھا تھا۔وہ ملازمت کو پسند نہیں کرتا تھا اور اس کی خواہش تھی کہ آزادرہ کر ملک وقوم کی خدمت کرے۔چنانچہ اس کے بعد مرحوم بیرسٹری کی تیاری میں مصروف رہا اور اس کے متعدد امتحانات پاس کئے مگر عمر نے وفا نہ کی اور آخر ستمبر ۱۹۳۷ء کے آخر میں عزیز کی صحت خراب رہنے لگی۔اس