مضامین بشیر (جلد 1) — Page 256
مضامین بشیر ۲۵۶ کیا آپ نے تحریک رمضان میں حصہ لیا ہے؟ کچھ دن ہوئے میں نے ”الفضل میں ایک نوٹ کے ذریعہ دوستوں کو رمضان کی برکات کی طرف توجہ دلائی تھی اور تحریک کی تھی۔چونکہ رمضان کا مہینہ اپنے اندر عظیم الشان روحانی برکات رکھتا ہے۔اس لئے دوستوں کو اس کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے اس کی برکات سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیئے تا کہ جب رمضان کا مہینہ گزرے اور عید کا دن آئے تو وہ ہمارے لئے حقیقی عید ہو اور ان دنوں میں ہم اپنے خدا سے قریب تر ہو چکے ہوں۔اس کے لئے میں نے رمضان کی بعض خصوصیات کا بھی ذکر کیا تھا۔اور مثال کے طور پر پانچ اور بھی باتیں بتا ئیں تھیں۔جن کی طرف دوستوں کو اس مہینہ میں خاص طور پر توجہ دینی چاہیئے یعنی : اول :۔سوائے اس کے کہ کوئی شرع عذر ہو رمضان کے سارے روزے پورے رکھے جائیں تا کہ خدا کی خاطر بھو کے اور پیاسے رہ کر اور پھر اپنی بیوی سے جدا رہ کر اپنی جان اور اپنی نسل کو خدا کے رستہ میں قربان کرنے کی طاقت اور ہمت ہو۔کیونکہ بھوکا پیاسا رہنا خوداپنے نفس کی قربانی کے قائم مقام ہے اور بیوی سے مخصوص صورت میں علیحدگی اختیار کرنا اپنی نسل کو خدا کے لئے قربان کرنے کی آمادگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔دوم : - رمضان کے مہینہ میں تراویح کی نماز کو جو در حقیقت تہجد ہی کی نماز ہے۔التزام اور با قاعدگی کے ساتھ ادا کیا جائے تا کہ ایک تو نماز کی وہ حقیقی غرض حاصل ہو۔جو خدا کے ساتھ مناجات اور ذاتی تعلق کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور دوسرے نیند اور آرام کے ترک سے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اے خدا ہم زندہ رہ کر اور زندگی کے حوائج کو پورا کرتے ہوئے بھی تیرے لئے زندگی کے ہر آرام و آسائش کو قید و بند کے اندر رکھنے کے لئے تیار ہیں۔سوم : - اس مہینہ میں قرآن شریف کی تلاوت پر زیادہ زور دیا جائے اور کم از کم ایک دور پورا کر لیا جائے۔تا کہ اس ذریعہ سے اس بات کو اظہار ہو کہ اے خدا ہم تیرے پیغام سے غافل نہیں اور ہمیں تیرا بھیجا ہوا کلام یاد ہے۔اور ہم اس کے سب حکموں پر عمل کرنے اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو چلانے کے لئے شب وروز فکر مند اور متوجہ ہیں۔چہارم : - رمضان میں دعاؤں پر خاص زور دیا جائے تا کہ قبولیت کے اس وعدہ سے پورا