مضامین بشیر (جلد 1) — Page 257
۲۵۷ مضامین بشیر پورا فائدہ اٹھایا جا سکے جو خدا تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمایا ہے کہ رمضان میں میں اپنے بندوں کے زیادہ قریب ہو جا تا ہوں اور ان کی دعاؤں کو زیادہ سنتا ہوں۔اور تا اسلام اور احمدیت کی ترقی کی دعائیں ہماری رفتار ترقی کو تیز تر کر دیں اور تاہم جلد تر اس خدائی وعدے کے دن کو دیکھ لیں۔جو ہمارے لئے ازل سے مقدر ہے۔مگر جس کا آگے یا پیچھے ہونا بڑی حد تک خود ہماری حالت پر موقوف ہے۔۔پنجم :۔اس ماہ میں صدقہ وخیرات پر زیادہ زور دیا جائے تا کہ ایک تو مساکین و یتامیٰ ہمارے اموال میں سے اپنا پورا پورا حصہ پالیں۔اور ان کی مشکلات و مصائب میں کمی آ کر قوم کا قدم من حيث القوم ترقی کی طرف اٹھے۔دوسرے ہم اس لحاظ سے خدا کے فضل کو اپنی طرف کھینچنے والے بنیں کہ جب ہم خدا کے پیدا کئے ہوئے بندوں کی مشکلات کو دور کرنے کے درپے ہیں تو خدا جو کسی کا احسان اپنے سر پر نہیں رہنے دیتا وہ آگے سے بھی بڑھ چڑھ کر ہماری دینی اور دنیوی مشکلات کو دُور فرمائے گا۔ان پانچ رستوں کو اختیار کر کے ہم رمضان کے مہینہ میں غیر معمولی اخلاقی اور روحانی ترقی حاصل کر سکتے ہیں۔اور جماعت کا قدم انفرادی اور اجتماعی رنگ میں ہر دوطرح سرعت کے ساتھ آگے اٹھ سکتا ہے اور ان پانچ طریقوں کے نتیجہ کے طور پر میں نے یہ بھی تحریک کی تھی کہ جماعت کے احباب رمضان کے مہینہ میں محاسبہ نفس کی عادت ڈالیں۔اور اپنے دل میں اس بات کا عہد کریں کہ وہ اس رمضان میں اپنی کسی ایک یا ایک سے زیادہ کمزوری کو دور کریں گے اور خدا کے فضل سے پھر کبھی اس کمزوری کا ارتکاب نہیں کریں گے بلکہ ایک مضبوط چٹان کی طرح اپنے عہد پر قائم رہیں گے۔اور اس کے بالمقابل میں نے احباب سے یہ وعدہ کیا تھا کہ جو دوست اپنے دل میں ایسا عہد باندھیں گے اور مجھے اس عہد سے اطلاع دیں گے میں انشاء اللہ ان کے اسماء ہر روز بلا ناغہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں دعا کی تحریک کے لئے پیش کیا کروں گا۔میں اپنی طرف سے اس وعدہ کو پورا کر رہا ہوں اور ہر روز حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں دوستوں کی فہرست پیش کی جا رہی ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک جماعت نے اس مبارک تحریک میں کافی حصہ نہیں لیا اور کم از کم جن دوستوں نے مجھے اطلاع دی ہے ان کی تعداد ابھی تک بہت کم ہے۔لہذا میں پھر اس اعلان کے ذریعہ سب دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اگر انہوں نے ابھی تک اس بارے میں سستی کی ہے تو اب سستی نہ کریں اور فوراً اس نیک تحریک میں حصہ لے کر جو دراصل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام