مضامین بشیر (جلد 1) — Page 252
مضامین بشیر ۲۵۲ (۸) جو روزے کسی عذر پر چھوڑے جائیں بعد میں ان کو پورا کرنے یا فدیہ دینے میں ستی۔(۹) صاحب نصاب ہونے کے با وجو د زکواۃ ادا کر نے میں سستی۔(۱۰) اس بات کی تحقیق اور جستجو کرنے میں سستی کہ آیا میں صاحب نصاب ہوں یا نہیں۔(۱۱) جماعت کے مقررہ چندوں کو شرح کے مطابق ادا کرنے میں سستی۔(۱۲) جماعت کے چندوں کو باقاعدہ بر وقت ادا کرنے میں سنتی۔(۱۳) وصیت کی طاقت رکھنے کے باوجود وصیت کرنے میں سستی۔(۱۴) یہ جانتے ہوئے کہ میرے مرنے کے بعد وصیت کی ادائیگی میں تنازع پیدا ہوسکتا ہے اپنی زندگی میں وصیت ادا کر دینے یا اس کی ادائیگی کا پختہ انتظام کر دینے میں سستی۔(۱۵) با وجود اس بات کی طاقت رکھنے کے وصیت کا اعلیٰ درجہ اختیار کرنے میں ستی۔(۱۶) تبلیغ کا فرض ادا کرنے میں سستی۔(۱۷) اپنے اہل وعیال اور ہمسایوں اور دوستوں کی تربیت کی طرف خاطر خواہ توجہ دینے میں سستی۔(۱۸) اپنے گھر میں درسِ قرآن کریم یا درس کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جاری کرنے یا جاری رکھنے میں سستی۔(۱۹) اپنے بچوں کو نماز کی عادت ڈالنے اور اپنے ساتھ مسجد میں لانے میں سستی۔( ۲۰ ) مقامی جماعت کے کاموں میں خاطر خواہ حصہ اور دلچسپی لینے میں سستی۔(۲۱) مقامی امیر یا پریذیڈنٹ کی خاطر خواہ اطاعت کرنے میں بے پروائی اور بے احتیاطی۔(۲۲) با وجود طاقت رکھنے کے مرکز میں بار بار آنے اور خلافت اور مرکز کے فیوض سے مستفیض ہونے میں سستی۔(۲۳) با وجود طاقت رکھنے کے الفضل اور دیگر مرکزی اخبارات ورسائل منگوانے میں سستی۔(۲۴) فتنہ پردازوں اور منافق طبع لوگوں سے فتنہ اور نفاق کی باتیں سننے کے باوجود ان کے متعلق رپورٹ کرنے کے معاملہ میں سستی اور بے پروائی بالحاظ داری۔(۲۵) رشتہ داری یا دوستی وغیرہ کی وجہ سے سچی شہادت دینے میں تامل کرنا۔(۲۶) جھوٹ بولنا۔(۲۷) دوسروں پر جھوٹے افتراء باندھنا۔(۲۸) بیکاری یعنے با وجود اس کے کہ کام کی ہمت اور اہلیت ہو اس خیال سے کہ فلاں کام ہماری شان کے خلاف ہے یا اس میں معاوضہ کم ملتا ہے اپنے مفید اوقات کو بریکاری میں ضائع کر دینا۔