مضامین بشیر (جلد 1) — Page 249
۲۴۹ مضامین بشیر اسلام یا خلاف احمدیت طریق کو نہیں اختیار کرنا چاہیئے بلکہ یقین رکھنا چاہیئے کہ خدا خود اپنی مخفی فوجوں کے ساتھ ہماری مدد کو آرہا ہے اور ہمیں ہر گز کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیئے جس سے خدا ناراض ہو کر اپنی فوجوں کو عارضی طور پر پیچھے ہٹا لے اور اپنی نصرت کے ہاتھ سے ہمیں محروم کر دے۔میں نے یہ الفاظ تصنع یا نمائش یا ظاہری داری کے طور پر نہیں لکھے بلکہ وہ میرے دل کی آواز ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اس قسم کی حرکات کرنے والے لوگ یقیناً اسلام اور احمدیت کی تعلیم کے خلاف قدم مارتے ہیں اور گو وہ اپنے آپ کو سلسلہ کا دوست خیال کریں مگر ان کا فعل حقیقتا دشمنی کے رنگ میں رنگین ہوتا ہے۔ان کو یہ دھو کہ نہیں کھانا چاہیئے کہ ان کی نیت اچھی ہے کیونکہ ظاہری نیت کوئی چیز نہیں اور اصل نیست وہی ہے جو خدا اور رسول کے حکم کے مطابق ہو۔آخر میں دعا کرتا ہوں کہ اے خدا تو ہمیں اس راستہ پر چلنے کی توفیق عطا کر جو تیری رضا کا رستہ ہے اور جس پر چل کر تیرے پاک بندے ہمیشہ تجھے پاتے رہے ہیں اور تو ہمارے بوڑھوں اور ہمارے جوانوں ہمارے مردوں اور ہماری عورتوں کو توفیق دے کہ وہ ہر بات میں تیری رضا کو اپنا مقصد بنا ئیں اور اے خدا تو ان کے قدموں کو خود ہر قسم کی لغزش سے بچا اور انہیں صداقت اور راستی کے رستہ پر ڈال دے۔امین اللهم امين بالآخر یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ اہلِ پیغام نے اس خط کے سلسلہ میں یہ الزام بھی لگایا ہے کہ یہ خط حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی انگیخت سے لکھا گیا ہے اور جماعت مبایعین کا ہاتھ اس کی تہہ میں کام کر رہا ہے۔اس کے تعلق میں سوائے اس کے کچھ نہیں کہہ سکتا کہ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَها وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُو الَى مُنْقَلَبٍ يُنْقَلِبُونَ۔١٦ واخر دعوانا ان الحمد الله رب العالمين ( مطبوعه الفضل ۵ ستمبر ۱۹۳۷ء)