مضامین بشیر (جلد 1) — Page 248
مضامین بشیر ۲۴۸ رنگ اور جدا گانہ حیثیت رکھتی ہے اور اسے مولوی محمد علی صاحب یا ان کے کسی رفیق پر چسپاں کرنا حد درجہ کی نادانی اور جہالت ہے۔کعب مدینہ کا ایک یہودی رئیس تھا جو نہ صرف اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اشد ترین مخالف اور معاند تھا بلکہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاہدہ کر کے اور آپ کی حکومت کے جوئے کو اپنی گردن پر اٹھا کر پھر آپ سے غداری کی اور خفیہ خفیہ اسلام کے دشمنوں کے ساتھ سازش کر کے اسلام کو مٹانا چاہا اور بالآخر اس قدر دلیر ہو گیا کہ اپنے حد درجہ اشتعال انگیز اور گندے شعروں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان کے خلاف عربوں کو ابھارا اور آپ کے قتل کی سازش کی۔ان حالات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکومت مدینہ کے صدر تھے۔اس کے قتل کا حکم صادر فرمایا۔پس کعب بن اشرف کی مثال پر مولوی محمد علی صاحب یا ان کے کسی رفیق کو دھمکی دینا پرلے درجہ کی بے وقوفی کا فعل ہے اور جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے۔یہ فعل صرف جہالت ہی کا فعل نہیں بلکہ شریعت کے منشاء کے صریح خلاف اور اسلام اور احمدیت کی تعلیم کے سخت مخالف ہے اور اگر ایسا شخص تائب نہیں ہوگا تو وہ یقیناً خدا کی ناراضگی کا نشانہ بنے گا اور اپنے ہاتھوں سے اپنی آخرت کو خراب اور تباہ کرنے والا ہوگا۔پس جہاں ہم اس کے اس فعل سے بیزاری اور نفرت کا اعلان کرتے ہیں۔وہاں خود اُسے بھی جتا دینا چاہتے ہیں کہ اس کا فعل اخلاقاً مذ ہباً اور قانوناً ہر طرح قابل ملامت ہے اور اسے چاہیئے کہ بہت جلد تو بہ کر کے اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہو۔میں نہیں جانتا کہ اس چٹھی کا لکھنے والا کون ہے اور کہاں کا رہنے والا ہے اور اس کی اصل غرض و غائت کیا ہے لیکن اگر جیسا کہ اہل پیغام کا دعوی ہے وہ ایک مبائع نوجوان ہے تو میں اسے اس عہد بیعت کا واسطہ دے کر جو اس نے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ باندھا ہے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس خلاف اسلام اور خلاف احمدیت طریق سے باز آجائے اور اس راستہ پر قدم زن نہ ہو جو دنیا و آخرت دونوں میں ذلت و رسوائی کا رستہ ہے۔اور جس کا نتیجہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ جماعت بدنام ہوا اور اس کی ترقی میں روک پیدا ہو جائے۔ہم خدا کے فضل سے حق پر ہیں اور خدا کی نصرت کا ہاتھ ہمیں ہر روز ترقی کی طرف لے جارہا ہے اور ہمارے دشمن ناکامی پر نا کامی دیکھتے ہوئے روز بروز گرتے جاتے اور ذلیل ہوتے جارہے ہیں اور یہ جو بعض درمیانی ابتلا آتے ہیں اور بعض مخفی فتنے سر نکالتے ہیں۔سو یہ بھی ہماری ترقی کا پیش خیمہ ہیں کیونکہ یہ وہ خدائی پھاوڑہ ہے جس سے دین کے کھیت کی گوڈائی مقصود ہے یا یہ وہ کھا د ہے جو خدائی فضل کے نشونما کو زیادہ کرنے کے لئے کھیت میں ڈالی گئی ہے۔پس ہمیں ان سے ڈرنا نہیں چاہیئے۔بلکہ خوش ہونا چاہیئے کہ ان کالے بادلوں کے پیچھے رحمت کی بارشیں مخفی ہیں اور ہمیں گھبرا کر کسی خلاف