مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 242 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 242

مضامین بشیر ۲۴۲ اس جگہ یہ ذکر کر دینا ضروری ہے کہ اس پیرے میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ صرف اصولی طور پر مخرجین کے اعتراضات اور ان کی موجودہ ذہنیت اور ادعا کو مدنظر رکھ کر لکھا گیا ہے ور نہ حقیقت کے لحاظ سے ان کے جملہ اتہامات سراسر باطل اور جھوٹ ہیں اور قرآن شریف ان سب کو مفتریات قرار دیتا ہے اور الزام لگانے والوں کو افترا پرداز اور کذاب ٹھہرا تا ہے۔والحق ما شهد به القران - نیت کے نیک ہونے کا ادعا ایک اور بات جو غالبا ٹھوکر کا باعث ہو رہی ہے۔یہ ہے کہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں اور ا بات کے مدعی ہیں کہ ہماری نیت نیک ہے اس لئے خدا ہمیں کامیابی عطا کرے گا۔اس کے متعلق میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اول تو نیت کا اصل حال صرف خدا کو معلوم ہوتا ہے اور ہم نہیں کہہ سکتے کہ کس کی نیت اچھی ہے اور کس کی خراب ہے بلکہ حق تو یہ ہے کہ نیت کا معاملہ ایسا نازک ہے کہ بسا اوقات خود نیت کرنے والے انسان کو بھی یہ خبر نہیں ہوتی کہ اس کی نیت حقیقتا نیک ہے یا نہیں کیونکہ کئی مخفی پر دے درمیان میں حائل ہوتے ہیں۔دوسرے محض نیک نیت ہونا قطعا کوئی چیز نہیں ہے اور نہ ہی محض ظاہری نیک نیتی انسان کو خدائی گرفت سے بچاسکتی ہے۔مثلا دیکھو یہ جو کروڑوں لوگ اسلام کے منکر ہیں۔کیا یہ سب بد نیت ہیں؟ اور یہ ساری غیر احمدی دنیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رد کر رہی ہے کیا وہ بدنیت ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ جہاں تک ظاہری نیت کا سوال ہے دنیا میں اکثر لوگ نیک نیت ہوتے ہیں لیکن وہ محض اس قسم کی نیک نیتی کی وجہ سے حق کے انکار کی لعنت سے نہیں بچ سکتے۔حقیقۃ الوحی کھول کر دیکھو۔اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نیت کے متعلق مفصل بحث کی ہے۔اور بتایا ہے کہ حقیقت کے لحاظ سے کس شخص کو نیک نیت سمجھا جاسکتا ہے اور کس کو نہیں اور یہ تشریح فرمائی ہے کہ جو شخص حق کا منکر ہے اسے محض اس کی ظاہری نیک نیتی کی وجہ سے نیک نیت نہیں قرار دیا جا سکتا جب تک کہ وہ ان شرائط اور لوازمات کو پورا نہ کرے جو نیک نیتی کے لئے ضروری ہیں۔۱۲ پس ان لوگوں کا یہ دعویٰ کہ وہ نیک نیت ہیں بالکل قابل قبول نہیں اور وہ انہیں خدائی گرفت سے ہر گز نہیں بچا سکتا اس طرح تو ہر مفسد اور ہر فتنہ پرداز یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں نیک نیت ہوں قرآن کھول کر دیکھو کیا مدینہ کے منافق یہ دعویٰ نہیں کرتے تھے کہ إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ یعنی ہم تو صرف اصلاح کی نیت سے کھڑے ہوئے ہیں۔مگر خدا تعالیٰ نے یہ فرما کر ان کے دعوای کو