مضامین بشیر (جلد 1) — Page 241
۲۴۱ مضامین بشیر میاں فخر الدین صاحب کو یہ دیکھنا چاہیئے تھا اور اب اُن کے بعد اُن کے رفقاء کو یہ خیال کرنا چاہیئے کہ اگر ایک شخص کی خلافت کو خدا نے نوازا ہے اور وہ اسے ترقی پر ترقی اور برکت پر برکت دے رہا ہے اور خدا کا قول اور فعل دونوں اس کی تائید میں ہیں۔تو اول تو ہما را یہ کام نہیں کہ اس کے نقصوں کے متعلق جستجو کریں۔اور اگر بالفرض ہمیں کوئی نقص نظر آتا بھی ہے تو پھر بھی ہمیں یہ سوچنا چاہیئے کہ جب خدا نے اس نقص کے باوجود اسے قبول کیا ہے اور اسے اپنی رحمت اور برکت سے نوازا ہے تو ہم کون ہیں کہ اس پر حرف گیری کریں ؟ اور اسے قابل رڈ قرار دیں۔ان حالات میں اگر ہمیں کوئی نقص نظر آتا ہے تو اول تو ہمارا فرض ہے کہ استغفار کر کے اس شیطانی خیال کو دل سے نکال دیں اور اگر ہم اسے دل سے نہ نکال سکیں تو ہمیں چاہیئے کہ کم از کم اسے ظاہر کر کے فتنہ نہ پیدا کریں بلکہ خدا سے دعا کریں کہ اگر کوئی نقص ہے تو وہ اس نقص کو دور کر دے۔الغرض یہ ایک زریں اصول تھا جو میاں فخر الدین صاحب اور ان کے ساتھیوں نے بالکل نظر انداز کر دیا اور وہ یہ کہ خدا کے ازلی قانون میں کسی چیز کے محض نقص یا محض خوبی کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ دونوں کو ایک دوسرے کے مقابلہ پر رکھ کر تو لا جاتا ہے۔پھر جو پہلو بھاری ہو اس کے مطابق اسے قبول کیا جاتا یا رد کیا جاتا ہے۔اگر ایک شخص میں ہزاروں خوبیاں ہیں اور یہ خوبیاں نہائت اہم اور وزنی اور وسیع الاثر ہیں اور اس کے مقابلہ پر ہمیں اس میں ایک آدھ کمزوری بھی نظر آتی ہے تو کیا اس کی اس کمزوری کی وجہ سے اس کی ہزاروں خوبیوں پر پانی پھیر دیا جائے گا۔ہرگز نہیں۔بلکہ خدا اسے باوجود اس مزعومہ کمزوری کے قبول کرے گا کیونکہ اس کا تر از وحق کا ترازو ہے۔اور اس کا یہ قانون ہے کہ اِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاتِ لایعنی نیکیاں کمزوریوں کو مٹا دیتی ہیں۔یہ ایک نہائت گرمی ہوئی ذہنیت ہے کہ کسی شخص کی طرف کوئی ایک آدھ جھوٹی سچی کمزوری منسوب کر کے اسے گرانے کی کوشش کی جائے اور اس کی ہزار ہا خو بیوں اور اعلیٰ قابلیتوں اور دین کے لئے اس کی محبت اور غیرت اور جوش اور قربانی کو بالکل نظر انداز کر دیا جائے۔افسوس کہ یہ لوگ الوصیت کے ان الفاظ کو بھی بھول چکے ہیں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ موعود د خلیفہ میں بعض لوگوں کو بعض کمزوریاں نظر آئیں اور دھوکا دینے والے خیالات کی وجہ سے وہ اسے بعض اعتراضات کا نشانہ بنائیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس وجہ سے جماعت کو ٹھو کر نہیں کھانی چاہیئے کیونکہ ایک کامل انسان بننے والا بھی پیٹ میں صرف ایک نطفہ یا علقہ ہوتا ہے 66 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے یہ ایک بہت لطیف سبق تھا مگر افسوس کہ میاں فخر الدین اور ان کے رفقاء نے اس سے بھی فائدہ نہ اٹھایا۔