مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 203 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 203

۲۰۳ مضامین بشیر بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا رویاء آج سے ۲۷ سال پہلے شائع ہو چکا ہے۔یہ ہے، آپ فرماتے ہیں کہ :- ” میں نے ۲۰ اپریل ۱۹۰۷ء کو رویاء میں دیکھا کہ بشیر احمد ( خاکسار راقم الحروف ابن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ) کھڑا ہے۔وہ ہاتھ سے شمال مشرق کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ زلزلہ اس طرف چلا گیا۔۸۱ اس رویاء کے متعلق کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔مطلب بالکل ظاہر ہے یعنی یہ کہ اس ملک کا آئندہ سخت زلزلہ ہندوستان کے شمال مشرقی حصہ میں آئے گا۔جیسا کہ پہلا سخت زلزلہ جو ۱۹۰۵ء میں آیا۔شمال مغربی حصہ میں آیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے کمال حکمت سے اس خواب میں ہی ایسے الفاظ رکھ دیئے جو یقینی طور پر اس بات کو ثابت کرتے ہیں کی شمال مشرق سے ملک کا شمال مشرق مراد ہے نہ کہ کچھ اور۔چنانچہ خواب کے الفاظ یہ ہیں کہ زلزلہ اس طرف چلا گیا“ کے الفاظ اس فقرہ میں چلا گیا کے الفاظ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ یہ سمت جو بتائی گئی ہے۔یہ کسی پہلی سمت کے مقابل پر ہے۔یعنی مقصود یہ ہے کہ پہلا زلزلہ ہندوستان کے شمال مغرب میں آیا تھا اور آئندہ زلزلہ اس کے مقابل پر شمال مشرق میں آئے گا۔خوب سوچ لو کہ چلا گیا“ کے الفاظ سوائے اس کے اور کچھ ثابت نہیں کرتے کہ ان میں یہ اشارہ کرنا مطلوب ہے کہ اگر پہلے زلزلہ کی تباہی کا مرکز ہندوستان کا شمال مغربی حصہ تھا تو آئندہ زلزلہ میں یہ مرکز منتقل ہو کر شمال مشرق میں چلا جائے گا۔اب دیکھو کہ یہ علامت ۱۵ جنوری ۱۹۳۴ء کے زلزلہ میں کس طرح حرف بحرف پوری ہوئی ہے۔ہندوستان کے جغرافیہ کا ادنی علم رکھنے والوں سے بھی یہ بات مخفی نہیں ہے۔حتی کے بچے بھی اسے جانتے ہیں کہ وادی کانگڑہ اور پنجاب جن میں ۱۹۰۵ء کا زلزلہ آیا۔وہ ہندوستان کے شمال مغرب میں واقع ہے اور بنگال اور بہار اور نیپال جن میں ۱۵ جنوری ۱۹۳۴ء کے زلزلہ کی سب سے بڑی تباہی آئی۔وہ ہندوستان کا شمال مشرقی حصہ ہیں اور یہ بات ایسی بدیہی اور عیاں ہے کہ اس پر ہمیں کسی دلیل کے لانے کی ضرورت نہیں مگر نا واقف لوگوں کی تسلی کے لئے اس جگہ تین اقتباسات درج کئے جاتے ہیں۔جن سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ زلزلہ صحیح معنوں میں شمال مشرقی زلزلہ ہے۔چنانچہ پنجاب کا انگریزی اخبا رسول لکھتا ہے : - وو ۱۵ جنوری ۱۹۳۴ء کے زلزلہ کا تحت الارض مرکز آسام سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ شمال مشرقی ہندوستان میں جتنے زلزلے کے دھکے محسوس ہوتے رہے ہیں ان کا تعلق آسام سے رہا ہے۔آلات سائنس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ موجودہ۔۔