مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 14 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 14

مضامین بشیر ۱۴ غیر احمدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے مدعی بھی نہیں اور یہ بالبداہت غلط ہے۔خدا را ہماری طرف وہ بات منسوب نہ کرو جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہے۔ہم تو غیر احمدیوں کو صرف مسیح موعود کا کافر سمجھتے ہیں اور بس۔چونکہ اور کسی رسول کا انہوں نے ظاہر أطور پر انکار نہیں کیا۔بلکہ ایمان لانے کے مدعی ہیں اس لئے وہ مسیح موعود کے سوا کسی اور رسول کے مطلقا کا فرنہیں کہلا سکتے۔ہاں انہوں نے مسیح موعود کے انکار سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور باقی گذشتہ انبیاء کا باطنی کفر اپنے اوپر ضرور لے لیا ہے بلکہ خود خدا تعالیٰ کا کفر سہیڑ لیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود حقیقۃ الوحی میں فرماتے ہیں کہ :- جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا ۱۲ جس کا یہی مطلب ہے۔کہ میرا ظاہری کفر خدا اور رسول کا باطنی کفر ہے۔فتدبر تعجب ہے کہ ہمارے غیر مبایعین احباب حضرت مسیح موعود کے کفر کو بالکل معمولی بات سمجھتے ہیں حالانکہ محمد رسول اللہ سے اتر کر باقی تمام رسولوں کے کفر سے مسیح موعود کا کفر زیادہ سخت اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو زیادہ بھڑ کانے والا ہے۔جیسا کہ خود حضرت اقدس فرماتے ہیں :- فی الحقیقت دو شخص بڑے ہی بد بخت ہیں اور انس و جن میں سے اُن سا کوئی بھی بد طالع نہیں۔ایک وہ جس نے خاتم الانبیاء کو نہ مانا۔دوسرا وہ جو خاتم الخلفاء پر ایمان نہ لایا۔۱۳ خلاصہ تمام مضمون کا یہ ہوا کہ ہم مسیح موعود پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے تمام غیر احمدیوں کو حقیقت اسلام کے دائرہ سے خارج سمجھتے ہیں مگر چونکہ وہ قشر پر قائم ہیں۔اس لئے علمیت کے دائرہ سے ان کو خارج قرار دینا صحیح نہیں ہے۔جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود غیر احمدیوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں :- و جس اسلام پر تم فخر کرتے ہو یہ رسم اسلام ہے نہ حقیقت اسلام۔‘۱۴ اسی طرح غیر احمدیوں کو ہم مسیح موعود کے انکار کی وجہ سے کا فر سمجھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسیح موعود کے ظاہر أطور پر کافر ہیں اور محمد رسول اللہ اور باقی رسولوں کے باطنی کا فر، اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے مسیح موعود کی اس تحریر میں کہ : - کفر دو قسم پر ہے۔( اول ) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے۔اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔( دوم ) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا۔“