مضامین بشیر (جلد 1) — Page 195
۱۹۵ ہے۔اسی طرح ستیا مڑھی کا حال ہوا ہے اور دوسری طرف موتی ہاری (چمپارن ) میں بھی جل تھل بن گیا ہے اور اس سارے علاقہ میں جہاں جہاں خشکی ہی خشکی تھی وہاں پانی ہی پانی ہو گیا ہے۔عجیب تبدیلیاں ہوئی ہیں۔کروڑ پتی اور لاکھوں پتی لوگوں کے عالی شان محل گر گئے ہیں اور اب وہ پھٹی پرانی بوریوں میں رات بسر کر رہے ہیں۔کئی خاندانوں کے نام و نشان مٹ گئے ہیں۔۵۷ پھر یہی اخبار ملاپ اپنے ایک اور نمبر میں ایک اور شخص کا چشم دید بیان لکھتا ہے کہ : - ایک دومنٹ میں ہی مکانوں کے گرنے سے اندھیرا ہو گیا نظر کچھ نہیں آتا تھا۔جیسا کہ روز قیامت ہے۔زمین ہل رہی تھی مکان گر رہے تھے زمین پھٹ رہی تھی اور ایسی پھٹ رہی تھی جیسے کوئی مقراض سے زمین چیر رہا ہے اور جہاں وہ پھٹ رہی تھی پانی کا دریا انڈرہا تھا لوگ جو باقی بچے تھے وہ اپنی جان پانی کے بہاؤ سے بچانے کے لئے بھاگ رہے تھے بھاگ کر کہاں جائیں جدھر دیکھو پانی ہی پانی نظر آتا تھا۔چاروں طرف زمین پھٹ رہی تھی۔شہر میں سڑکیں پھٹ چکی تھیں۔ہزاروں آدمی کھنڈرات کے نیچے دب کر مر چکے تھے۔خاندانوں کے خاندان تباہ ہو گئے ہیں۔کل جو لاکھوں کے مالک تھے وہ آج کوڑی کوڑی کے محتاج ہو گئے ہیں۔۵۸ اخبار زمیندارلکھتا ہے کہ : -۔نگھیر میں رات سے موسلا دھار بارش شروع ہوگئی جو اب تک برابر جاری ہے۔بدنصیب باشندگان مونگھیر کی مصیبتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔اس وقت ان کی حالت قابل رحم ہے۔ان کے پاس نہ اوڑھنے کے لئے کمبل ہے نہ پہنے کے لئے کپڑا۔اس نئی مصیبت کی وجہ سے بعض کی زبان سے یہ الفاظ سنے گئے اس سے تو بہتر تھا کہ ہم بھی مرجاتے۔اس زندگی سے تو موت بہتر ہے اے خدا ہمیں موت دے‘۵۹ اخبار ملاپ لکھتا ہے کہ : - مظفر پور اور پٹنہ میں کل رات سے موسلا دھار بارش شروع ہے۔سڑکوں پر پڑے پڑے ہزار ہا بندگان خدا اب بارش میں شرابور سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں۔مطلع پرابر محیط ہے۔اور ابھی بارش تھمنے کی کوئی علامت نظر نہیں آتی۔۔۶۰ مضامین بشیر