مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 194 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 194

مضامین بشیر 66 ۱۹۴ دینے لگا۔گڑ گڑاہٹ نے کان پھاڑ ڈالے اور زمین متزلزل ہو اٹھی۔مکانات ناچتے ہوئے نظر آنے لگے اور پھر ایک لمحہ میں اڑا اڑا دہم“ کی صدائیں اٹھیں۔گردوغبار کا چاروں طرف اٹھتا ہوا انبار تھا۔جو جہاں تھا وہیں رہ گیا اور کسی کو کسی کی خبر لینے کی سدھ نہ رہی۔چند منٹوں کے بعد جو لوگ زندہ بچ نکلے۔انہوں نے دیکھا کہ مونگھیر کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا اور کھنڈرات کے اندرون سے چیخوں کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔زلزلہ کی ہیبت ناک آواز تو بند ہوگئی ہے لیکن دبے ہوئے مردوں بچوں اور عورتوں کی چلا ہٹ سے زمین کے اندر طوفان برپا ہو رہا ہے لیکن تھوڑی دیر بعد وہ انسانی شور بند ہوگیا اور دبے ہوئے لوگ یا تو مر گئے یا بے ہوش ہو گئے۔“ اس کے بعد کھدائی کا کام شروع ہوا۔بازاروں میں سائیکل سوار بدستور سائیکل پر بیٹھا نکلا ہے لیکن مرا ہوا۔مکان میں ماں بچے کو نہلا رہی ہے۔ایک ننھا بچہ گود میں ہے اسی حالت میں مکان گرا ہے اور لاشیں اسی حالت میں نکلی ہیں۔دوکاندار سودا تول رہا ہے سامنے خریدار کھڑے ہیں اور انہیں جہاں کا تہاں بھونچال نے رکھ دیا ہے۔ملبہ کو ہٹانے کے بعد اسی پوزیشن میں لاشیں نکلی ہیں۔مونگھیر کے بعد شمالی بہار میں سب سے زیادہ نقصان مظفر پور میں ہوا ہے۔اس کی آبادی ۵۲ ہزار کی تھی۔سارے شہر میں ایک درجن سے زائد مکان نہیں بچے۔سب کے سب نشٹ ہو گئے ہیں۔اس وقت تک مظفر پور میں ملبہ کے نیچے۔۔۔۔۔۔۔۔سے ۳ ہزار لاشیں نکل چکی ہیں اور ابھی اور نکالی جارہی ہیں۔“ لوگوں کا بیان ہے کہ پہلے ایک معمولی سا جھٹکا آیا۔پھر زمین کے اندر سے ہوائی جہاز کے چلنے کی آواز آئی۔شور زیادہ بڑھا اور ایسا معلوم ہوا جیسے بم کے ہزار ہا گولے پھٹ رہے ہیں اور تب مکانات گرنے لگے اور چیخ و پکار کی ختم نہ ہونے والی صدائیں بلند ہو اٹھیں۔دوکانوں اور مکانوں کے اندر زمین پھٹ گئی اور پانی اور ریت کے چشمے جاری ہو گئے۔سڑکیں بھی پھٹ گئی اور ان کے اندر سے بھی ریت اور پانی باہر نکلنے لگا۔دیہات میں بھی زمین جگہ جگہ سے پھٹ گئی اور کہیں سے سات گز اور کہیں سے پانچ پانچ گز بلند فوارے جاری ہو گئے۔“ جنگ پور میں سات آٹھ دن گزر جانے کے باوجود بازاروں میں کشتی چل رہی