مضامین بشیر (جلد 1) — Page 190
مضامین بشیر ۱۹۰ اور خطرے کے کچھ نظر نہیں آتا۔۴۸ اخبار زمیندار لا ہو ر لکھتا ہے کہ :- ۱۵ جنوری کے ہولناک زلزلے نے صوبہ بہار کے مختلف مقامات پر تباہی و بر بادی کا جو ہولناک منظر پیدا کر دیا ہے۔اس کی نظیر ہندوستان کی تاریخ میں موجود نہیں۔اس بد نصیب صوبہ بہار میں اب تک تقریباً ہزار ہا نفوس جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں ہلاکت کا شکار ہو چکے ہیں۔مجروحین کی تعداد قریباً ایک لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔کروڑوں روپے کی جائداد میں زلزلے کے بے پناہ ہاتھ سے پیوند زمین ہو چکی ہیں۔تمام اثاث البیت جو انہوں نے صدیوں کی محنت سے جمع کیا تھا۔ہزاروں من ملبے کے نیچے دب کر برباد ہو چکا ہے۔شہروں کے شہر مسمار اور علاقوں کے علاقے ڈھنڈ ہار ہو چکے ہیں۔کئی کئی میل تک کھانے پینے کی چیزوں کا نام ونشان نہیں۔سردی سے بچنے کے لئے کپڑے کی دھجی تک میسر نہیں۔۴۹ اخبار پرتاپ لا ہور لکھتا ہے کہ :- بہار واڑیسہ سے جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں وہ بہت دردناک ہیں۔وہاں سے جو اصحاب بھاگ کر الہ آباد میں آئے ہیں ان کا بیان ہے کہ مونگھیر ، مظفر پور، چھپرا ، ستیا مڑھی اور دربھنگہ میں ۲۰ کروڑ کا نقصان ہو گیا ہے۔۲۵ ہزار آدمی صرف ایک مونگھیر میں مر گئے ہیں۔صرف ۲۲ / جنوری کے دن سرکاری انتظامات کے ماتحت تین ہزار لاشوں کو جلایا گیا ہے۔مذکورہ بالا شہروں میں بازاروں کا نام ونشان نہیں ملتا۔وہ لاشوں ، سروں، ٹانگوں اور پتھروں وغیرہ سے بھرے ہوئے ہیں اتنی بد بو پھیل رہی ہے کہ مظہر نا مشکل ہو رہا ہے۔“ ,, امرت بازار پتر کا سپیشل نامہ نگارمونکھیر سے لکھتا ہے کہ : - زلزلہ زدہ علاقہ میں ایک لاکھ مویشی ہلاک ہو گئے ہیں۔ایک تجارتی ایجنٹ ابھی ابھی مظفر پور سے آیا ہے جو زلزلہ کے وقت وہاں موجود تھا۔وہ بیان کرتا ہے کہ مکانات کی چھتوں سے انسانی سر۔ٹانگیں۔ہاتھ اور پاؤں بیسیوں کی تعداد میں کٹے ہوئے گر رہے تھے۔ہاہا کار کی آوازوں سے میں گھبرا گیا۔کئی آدمیوں کو کھڑکیوں سے چھلانگیں لگاتے دیکھا مگر ان کے نیچے آنے سے پہلے دیوار میں گر جاتی تھیں۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انسانی سروں۔ہاتھوں اور بازوؤں