مضامین بشیر (جلد 1) — Page 187
۱۸۷ مضامین بشیر اور زمین کے جگہ جگہ سے پھٹ جانے سے فصلوں کا جو نقصان ہوا ہے وہ مزید برآں ہے۔الغرض اس علاقہ میں اس وقت ایک قیامت کا نمونہ برپا ہے۔مونکھیر ، درا بھنگہ ، مظفر پور، موتی ہاری اور کھٹمنڈو تو گویا بالکل ہی صاف ہو چکے ہیں اور باقی جگہوں میں بھی ایک ہولناک نظارہ تباہی و بربادی کا نظر آتا ہے۔زلزلہ کی رو پہلے تو ایک طرف سے دوسری طرف جاتی ہوئی محسوس ہوئی لیکن پھر یوں محسوس ہوا کہ زمین کے نیچے کوئی چیز چکی کی طرح گھوم رہی ہے۔گو یا خدائی فرشتوں کی فوج اس ارادہ سے اتری ہے کہ سب کچھ پیس کر رکھ دے گی اس زلزلہ کی تباہی ۱۹۰۵ء کے شمال مغربی زلزلے سے بھی بہت بڑھ کر ہے کیونکہ نہ صرف جانوں کا نقصان زیادہ ہے۔بلکہ بوجہ اس کے یہ ایک زرخیز اور آباد علاقہ تھا۔اس میں جو مالی نقصان ہوا ہے۔وہ کانگڑہ وادی کے نقصان سے بہت بڑا ہے۔اور کروڑوں کروڑ روپے سے کسی صورت میں کم نہیں۔چنانچہ اسی نقصان کو دیکھتے ہوئے علا وہ بہت سے ہندوستانی لیڈروں کے ہز ایکسی لنسی وائسرائے ہند اور گورنران صوبجات والیان ریاست اور ہر میجسٹی کنگ جارج اور وزیر ہند اور لارڈ مئیر آف لنڈن اور غیر حکومتوں کے صدر اور وزراء وغیرہ نے مصیبت زدگان کی امداد کے لئے چندہ کی خاص تحریک کی ہے اور خود بھی چندہ دیا ہے۔الغرض کیا بلحاظ جانی نقصان اور کیا بلحاظ مالی نقصان (جس کا پورا اندازہ ابھی تک نہیں ہوسکا اور اس وقت تک جو بھی اندازہ ہوا ہے۔اس سے اصل نقصان بہر حال بڑھ کر ہے ) یہ زلزلہ ایک خاص زلزلہ تھا اور اس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ یہ ایک قیامت کا ایک نمونہ تھا جو خدا نے دنیا کے سامنے پیش کیا مگر چونکہ ہر قوم وملت کے اخبارات میں اس زلزلہ کی تباہی کے حالات مفصل شائع ہو چکے ہیں۔اس لئے ہمیں اس کے متعلق حوالے اور اقتباسات نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔لیکن محض نمو نے کے طور پر اور کسی قدر تفصیلات کا علم دینے کے لئے چند اقتباسات درج کئے جاتے ہیں۔تباہی کے ہولناک کوائف اخبار الجمیعتہ دہلی لکھتا ہے :۔سب سے زیادہ ہولناک تباہی کی خبریں صوبہ بہار کے بڑے بڑے شہروں اور قصبوں مثلاً پٹنہ، مظفر پور، دربھنگہ، لہر یا سرائے ، موناکھیر ، بھاگل پور، جمال پور ، گیا ، بتیا ، ترہٹ، پورینہ ، سمستی پور، سارن، چمپارن، موتی ہاری، صاحب گنج، ستیا مڑھی ، چھپرا ، منمیت پور، حاجی پور، ڈیکھی ، آرہ اور چھوٹے چھوٹے قصبات