مضامین بشیر (جلد 1) — Page 184
مضامین بشیر ۱۸۴ سلسلہ احمدیہ کے الہامات و کشوف میں تصریح اور تعیین پائی جاتی ہے اور یوں نظر آتا ہے کہ گویا خدائی ہاتھ معین طور پر اشارہ کر رہا ہے کہ یہ زلزلہ ان خاص زلزلوں میں سے ایک ایسا زلزلہ ہے جس کے متعلق تعیین اور صراحت کے ساتھ خبر دی گئی تھی۔۱۵ جنوری ۱۹۳۴ء کا قیامت نما زلزلہ اور اس کی علامات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات اور کشوف سے پتہ لگتا ہے کہ ۱۵/ جنوری ۱۹۳۴ء والے زلزلے کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مندرجہ ذیل علامات مقرر تھیں۔یعنی منجملہ بعض اور علامات کے ذیل کی پانچ علامت اس کے لئے خاص طور پر مقرر کی گئی تھیں۔اوّل۔اس زلزلہ میں خطرناک تباہی آئے گی اور اس کے ساتھ پانی کا سیلاب بھی ہوگا۔دوم۔یہ زلزلہ نادر شاہ بادشاہ افغانستان کے قتل کے بعد اس کے قریب کے زمانہ میں آئے گا۔سوم۔یہ زلزلہ موسم بہار میں آئے گا۔چہارم۔یہ زلزلہ ہندوستان کے شمال مشرقی علاقہ میں آئے گا۔پنجم۔یہ زلزلہ خاکسا راقم الحروف مرزا بشیر احمد کی زندگی میں آئے گا اور خاکسار ہی ابتدا اس پیشگوئی کی طرف توجہ دلانے والا ہوگا۔یہ وہ پانچ علامات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آج سے قریباً ۲۸ سال پہلے اس زلزلہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ظاہر فرمائیں اور آج ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ باتیں کس طرح من وعن پوری ہوئیں۔اس زلزلہ کی خطرناک تباہی کے ساتھ پانی کا سیلاب بھی مقدر تھا سب سے پہلی علامت جو زلزلہ کی تباہی اور پانی کے سیلاب کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔اس میں سے تباہی والا حصہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت سے الہامات اور کشوف میں بیان ہوا ہے۔جیسا کہ مندرجہ بالا حوالہ جات سے ظاہر ہے اور چونکہ یہ زلزلہ بھی ان خطرناک زلزلوں میں سے ایک زلزلہ ہے جن کی خبر دی گئی تھی۔اس لئے جو تباہی کی صورت دوسرے سخت زلزلوں کے متعلق بیان ہوئی ہے۔وہی اس زلزلہ پر بھی چسپاں ہوگی مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ایک مکاشفہ میں ایک ایسے زلزلے کا ذکر کیا ہے جس کے ساتھ زمین کو زیر وزبر کر دینے والی تباہی کے پہلو بہ پہلو سیلاب کی تباہی بھی شامل ہوگی۔چنانچہ فرماتے ہیں ؎