مضامین بشیر (جلد 1) — Page 180
مضامین بشیر انہیں ہم مٹاتے جائیں گے۔‘“ ۱۸۰ پھر ۱۰ اپریل ۱۹۰۵ء کو الہام ہوا : - إِنِّي مَعَ الَّا افْوَاجِ اتِيُكَ بَغْتَةً ٢٠ یعنی میں اپنی فوجیں لے کر آؤں اور اچانک آؤں گا۔یہ الہام اس کے بعد بھی کئی دفعہ ہوا۔پھر ۱۱۵ پریل ۱۹۰۵ء کو ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ و سخت زلزلہ آیا ہے جو پہلے سے زیادہ معلوم ہوتا تھا۔۲۱ پھر ۱۱۸اپریل ۱۹۰۵ء کو ایک اور خواب دیکھا کہ : - وو بڑے زور سے زلزلہ آیا ہے اور زمین اس طرح اڑ رہی ہے جس طرح روئی دھنی جاتی ہے۔‘۲۲ پھر ۲۳ اپریل ۱۹۰۵ء کو یہ الہام ہوا کہ :- بھونچال آیا اور بڑی شدت سے آیا۔‘۲۳ پھر ۲۳ مئی ۱۹۰۵ء کو الہام ہوا : - زمین تہ و بالا کر دی ۲۴۰ پھر ۲۳ اگست ۱۹۰۵ ء کو یہ وحی ہوئی کہ : - ا۔پہاڑ گرا اور زلزلہ آیا۔۲۔تو جانتا ہے میں کون ہوں؟ میں خدا ہوں جس کو چاہتا ہوں عزت دیتا ہوں۔جس کو چاہتا ہوں ذلت دیتا ہوں۔‘۲۵ پھر ۳ استمبر ۱۹۰۵ء کو الہام ہوا : - عَفَتِ الذِيَارُ كَذِكُرِى ٢٦ یعنی جس طرح لوگوں نے میری یاد کو اپنے دلوں سے محو کر رکھا ہے۔اسی طرح اب 66 میرے ہاتھ سے آبادیاں بھی صفحہ ہستی سے محو ہوں گی۔“ پھر ۱۴ مارچ ۱۹۰۶ء کو الہام ہوا : - " چمک دکھلاؤں گا تم کو اس نشان کی پنج بار ۲۷ یعنی پانچ زلز لے خاص طور پر نمایاں ہوں گے۔پھر ۴ امئی ۱۹۰۴ء کو الہام ہوا: - هَلْ أَتَاكَ حَدِيتُ الزَّلْزَلَةِ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا