مضامین بشیر (جلد 1) — Page 177
122 مضامین بشیر پہلا الہام اس بارے میں دسمبر ۱۹۰۳ء میں ہوا۔جو یہ تھا۔زلزلہ کا ایک دھگا۔۱۰ یعنی عنقریب ایک زلزلہ کا حادثہ پیش آنے والا ہے۔اس کے بعد یکم جون ۱۹۰۴ء کو الہام ہوا۔عَفَتِ الذِيَارُ مُحَلُّهَا وَمُقَامُهَا۔یعنی جس زلزلہ کی خبر دی گئی ہے۔وہ بہت سخت ہوگا اور اس سے ” ملک کے ایک حصہ میں عارضی رہائش کے مکان اور نیز مستقل رہائش کے مکان منہدم ہو کر مٹ جائیں گے“۔اس الہام میں زلزلہ کی تباہی کے علاوہ کمال خوبی کے ساتھ اس جگہ کی طرف بھی اشارہ کر دیا گیا تھا جہاں اس زلزلہ کی سب سے زیادہ بختی محسوس ہوئی تھی۔چنانچہ مُحَلَّهَا وَمُقَامُهَا کے الفاظ صاف طور پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس زلزلہ کی زیادہ تباہی ایسے علاقہ میں آئے گی جہاں عارضی رہائش اور مستقل رہائش دونوں قسم کی بستی ہوگی اور ظاہر ہے کہ وہ ایسا پہاڑ ہی ہوسکتا ہے۔جہاں ایک طرف تو مستقل آبادی ہو اور دوسری طرف وہاں گرمی گزارنے کے لئے لوگ موسم گرما میں عارضی طور پر بھی جا کر رہتے ہوں۔چنانچہ کانگڑہ کے ضلع میں دھرم سالہ اور پالم پور وغیرہ کے صحت افزا مقامات بالکل اسی نقشہ کے مطابق ہیں۔گویا زلزلہ سے قریباً سوا سال قبل جبکہ اس زلزلہ کا وہم و گمان بھی نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے اپنے مسیح کو آنے والے زلزلہ کی خبر دے دی۔اور پھر زلزلہ سے دس ماہ قبل اس کی خطرناک تباہی سے اطلاع دی۔اور پھر اس کی جگہ بھی بتادی اور اس کی اہمیت کو ظاہر کرنے کے لئے مندرجہ بالا الہام سے صرف چند دن بعد یعنی ۸ جون ۱۹۰۴ء کو پھر دوبارہ الہام کیا کہ : - عَفَتِ الذِيَارُ مَحَلُّهَا وَمُقَامُهَا إِنِّى أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ۔١٢ یعنی ایک حصہ ملک کے عارضی رہائش کے مکانات اور مستقل رہائش کے مکانات منہدم ہو کر مٹ جائیں گے۔مگر میں اس حادثہ عظیمہ میں اُن لوگوں کو جو تیری جماعت کی چاردیواری میں ہوں گے محفوظ رکھوں گا۔“ اس الہام میں سابقہ خبر کی تکرار کے ساتھ یہ بشارت زیادہ کی گئی کہ اس زلزلہ میں جماعت احمد یہ کی جانیں محفوظ رہیں گی۔اس کے بعد جب زلزلہ کا وقت زیادہ قریب آیا تو ۲۶/۲۷ فروری ۱۹۰۵ء کی رات کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک کشف میں بتایا کہ دردناک موتوں سے عجیب طرح پر شور قیامت برپا ہے اور پھر اس کے ساتھ ہی الہام ہوا کہ : -