مضامین بشیر (جلد 1) — Page 166
مضامین بشیر ۱۶۶ رمضان کی برکات سے فائدہ اٹھاؤ الحمد للہ کہ مورخہ ۱۹ دسمبر ۱۹۳۳ء سے رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہو گیا ہے۔یہ مہینہ نہایت درجہ مبارک ہے۔اور اس کے اوصاف میں بہت سی قرآنی آیات اور احادیث وارد ہوئی ہیں۔چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ رمضان کے ذکر میں فرماتا ہے :- وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَان ۲۵ یعنی رمضان کے مہینہ میں میں اپنے بندوں سے قریب ہوجاتا ہوں اور ان کی 66 دعاؤں کو خاص طور پر سنتا ہوں۔“ پس احباب کو چاہیئے کہ اس مبارک مہینہ کی برکات سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔سوائے کسی شرعی عذر مثلاً سفر اور بیماری وغیرہ کے روزہ ہر گز ترک نہ کیا جائے۔اور روزے کے ایام کو خاص طور پر تلاوت قرآن کریم اور ذکر الہی اور نوافل میں گزارہ جائے۔اور ہر قسم کے مناہی اور لغویات سے کلی طور پر پر ہمیز کیا جائے۔نیز رمضان کے مہینہ میں خاص طور پر نماز تہجد کا اہتمام کیا جائے اور اپنی اپنی جگہ پر نماز تراویح کا انتظام کر کے قرآن شریف ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔علاوہ ازیں حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مہینہ میں خاص طور پر صدقہ و خیرات پر زور دیتے تھے۔اس لئے احباب کو بھی اس سنت کے ماتحت رمضان میں حتی الوسع صدقہ وخیرات کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیئے۔غرض اس ماہ میں دینی مشاغل اور اعمال صالحہ کی طرف خاص توجہ ہونی چاہیئے۔اور خصوصیت کے ساتھ دعاؤں پر بہت زور دیا جائے اور اسلام اور سلسلہ احمدیہ کی ترقی اور جماعت کی اصلاح اور بہبودی کے لئے دعائیں کی جائیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر درود بھیجنے کے علاوہ حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے لئے بھی دعائیں کی جائیں۔اس کے علاوہ ایک اور بات جس کی طرف بعض گزشتہ رمضانوں میں بھی توجہ دلائی جاتی رہی ہے یہ ہے کہ ہر احمدی بھائی کو چاہیئے کہ اس رمضان میں اپنی کمزوریوں میں سے کسی ایک کمزوری کے دور کرنے کا عہد باندھیں اور پھر پورے عزم اور استقلال کے ساتھ اس عہد کو نبھا ئیں۔حضرت مسیح 0