مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 161 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 161

171 مضامین بشیر رسول کریم کے کلام کا کمال میں بتا چکا ہوں کہ عام زبان میں علم النفس اس علم کا نام ہے جو انسانی ذہن کی تشریح اور اس کے کام سے تعلق رکھتا ہے۔اس علم میں ذہنی اور قلبی تاثرات سے بحث کی جاتی ہے۔اور یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان اپنے ماحول سے کس طرح اثر قبول کرتا ہے اور اس کے خیالات کی روئیں کس طرح اور کن اصول کے ماتحت چلتی ہیں۔وغیر ذالک۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام میں یہ کمال تھا کہ اس میں مخاطب فرد یا جماعت کی ذہنی کیفیت کا پورا پور لحاظ رکھا جاتا تھا اور کسی فرد یا جماعت کے خیالات کی اصلاح کے لئے جو بہترین طریق ہو سکتا ہے اس کے مطابق آپ کی زبان مبارک گویا ہوتی تھی۔اور اس لئے سوائے اس کے کہ مشیت ایزدی دوسری طرح ہو آپ کی ہر بات ایک اپنی میخ کی طرح سامع کے دل میں دھنس جاتی تھی اور آپ اپنے مخاطب کے خیالات کی رو کو غلط رستے پر جاتا دیکھ کر یا یہ سمجھ کر کہ اس کے غلط رستے پر پڑنے کا احتمال ہے فوراً ایسی بات فرماتے تھے جو سامع کی ذہنی رو کو کاٹ کر اس کا رُخ بدل دیتی تھی۔ایسی مثالیں آپ کی زندگی میں ہزاروں ملتی ہیں بلکہ آپ کی ساری زندگی ہی اس کی مثال ہے۔مگر میں اس جگہ بطور نمونہ صرف چند مثالیں بیان کر دینے پر اکتفا کروں گا۔وما توفیقی الا بالله۔جنگ بدر کے موقع کی مثال جنگ بدر کے موقع پر جب کہ ابھی مسلمان لشکر کفار کے سامنے نہیں ہوئے تھے اور اکثر مسلمان اس بات سے بے خبر تھے کہ کفار کا ایک جرار لشکر مکہ سے نکل کر آ رہا ہے۔اور صرف اس خیال سے گھر سے نکلے تھے کہ قافلہ سے سامنا ہو گا۔اس وقت بعض صحابہ نے کفار مکہ کا ایک سپاہی جو انہیں ایک چشمہ پر مل گیا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پکڑ کر پیش کیا۔آپ نے اس سے لشکر کفار کے متعلق بعض سوالات کئے اور پھر پوچھا کہ رؤساء مکہ میں سے کون کون ساتھ ہے۔اس نے کہا عتبہ شیبہ امیہ۔نظر بن حارث۔عقبہ۔ابو جہل۔ابو البختری۔حکیم بن حزام وغیرہ سب ساتھ ہیں۔یہ لوگ چونکہ قبیلہ قریش کے روح رواں تھے اور نہایت بہادر اور جری سپہ سالار سمجھے جاتے تھے ان کے نام سُن کر اور یہ معلوم کر کے کہ مکہ کے سارے نامی لوگ مسلمانوں کے استیصال کے لئے نکل آئے ہیں۔بعض کمزور صحابہ کسی قدر گھبرائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو بے ساختہ فرمایا - هذه مكة قد القت اليكم اخلاف كبدها۔لومکہ نے تو تمہارے سامنے