مضامین بشیر (جلد 1) — Page 159
۱۵۹ مضامین بشیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہر علم النفس کی حیثیت میں انبیاء کا ایک نمایاں امتیاز دنیا میں بہت لوگ علم النفس کے ماہر گزرے ہیں اور آج کل تو یہ علم خصوصیت سے بہت ترقی کر گیا ہے لیکن غور سے دیکھا جائے تو اکثر لوگ جو اس علم کے عالم کہلاتے ہیں۔ان کا علم صرف اصطلاحات کی واقفیت تک محدود ہوتا ہے اور اگر اصطلاحات کے علم سے اوپر گزر کر کبھی کسی کو حقیقی علم تک رسائی بھی ہوتی ہے تو وہ صرف اس فن کے علمی حصہ تک محدود رہتی ہے اور اس کا عملی حصہ جو حقیقہ مقصود ہے اس فن کے اکثر ماہرین کے دائرہ حصول سے باہر رہتا ہے اور صرف علم النفس پر ہی مصر نہیں۔دنیا میں بہت سے علوم اسی نامرادی کی حالت میں پائے جاتے ہیں کہ لوگوں کا مبلغ علم اصطلاحات کی حد سے آگے نہیں جاتا۔اور جن صورتوں میں وہ آگے جاتا بھی ہے وہ صرف علمی پہلو تک محد ودر ہتا ہے۔اور علوم کے عملی استعمال تک بہت ہی کم لوگ پہو نچتے ہیں۔منطق کے علم کو دیکھو تو ہزاروں لاکھوں اس علم کے ماہر نظر آئیں گے مگر ان کا علم اصطلاحات سے آگے نہیں جاتا اور ان کی عمر عزیز اصطلاحات کے رٹنے میں ہی صرف ہو جاتی ہے اور اس علم کا جو حقیقی مقصد ہے کہ جرح و تعدیل کا صحیح ملکہ پیدا ہو جائے اس سے اکثر لوگ محروم رہتے ہیں۔بلکہ بسا اوقات منطقی لوگ اپنے دلائل میں زیادہ بودے اور سطحی پائے گئے ہیں کیونکہ اصطلاحات کی الجھن ان کے لئے حقیقت تک پہونچنے کے رستے میں روک بن جاتی ہے لیکن عام لوگوں کے مقابل پر اگر انبیاء کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو یہ امتیا ز نمایاں صورت میں نظر آتا ہے کہ ان کے جملہ علوم حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں بلکہ وہ گو بعض اوقات علوم کی اصطلاحات سے بوجہ ظاہری تعلیم کی کمی کے واقف نہیں ہوتے مگر ہر علم جو اُن کے دائرہ کار سے تعلق رکھتا ہے اس کے اصل مقصد و مدعا یا بالفاظ دیگر اس علم کے گودے اور جو ہر سے انہیں پوری پوری واقفیت ہوتی ہے اور ان سے بڑھ کر کوئی شخص ایسے علم کا عالم مل نہیں سکتا۔انبیاء اور علم النفس علم النفس بھی جو گویا انسان کے ذہنی اور قلبی تاثرات کا علم ہے انبیاء کے مخصوص علوم کا حصہ ہے