مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 9 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 9

۹ مضا مین بشیر خوب یاد رکھو کہ اب آسمان کے پردے کے نیچے محمد رسول اللہ کے سوائے کسی شخص کی ایسی شان نہیں ہے کہ اس کا انکار انسان کو ہر قسم کے اسلام سے خارج کر دے۔مسیح موعود خواہ اپنی موجودہ شان سے بھی بڑھ کر شان میں نزول فرما دے مگر اس کا انکار اس کے منکرین کو صرف حقیقت اسلام کے دائرہ سے خارج کر سکتا ہے۔اس سے زیادہ ہر گز نہیں۔میں اپنے ذوق اور تحقیقات کی بناء پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اتر کر باقی تمام انبیاء سے افضل یقین کرتا ہوں اور اس کے ثبوت کے لئے بفضل تعالیٰ اپنے پاس نہایت قوی دلائل رکھتا ہوں۔جن کے بیان کا یہ موقع نہیں مگر پھر بھی میرا یہی ایمان ہے کہ مسیح موعود کا انکار مطلقاً اسلام کے دائرہ سے خارج نہیں کرسکتا۔اور اگر کوئی یہ کہے کہ اصل چیز تو حقیقت ہے علمیت کا دائرہ کوئی چیز نہیں تو میں اس سے متفق نہیں ہوں گا۔کیا خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا قائل ہونا محمد رسول اللہ کو خاتم النبین یقین کرنا۔قرآن کریم کو خدا کا کلام اور کامل شریعت جاننا اور اسلام جیسے پیارے نام کی طرف منسوب ہونا کچھ بھی نہیں ؟ یقینا ہے اور بہت کچھ ہے۔خدا تعالیٰ تو نکتہ نواز ہے۔وہ رحم کرنے پر آئے تو اس نام کی طرف نسبت رکھنا ہی بہت کچھ ہے۔بھلا بتاؤ تو سہی کہ اگر علمیت کا دائرہ کچھ نہیں تو کس چیز نے غیر احمدیوں کو ہندوؤں ، یہودیوں اور عیسائیوں کی نسبت ہمارے بہت زیادہ قریب کر رکھا ہے۔غرض یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیئے کہ مسیح موعود کا انکار صرف حقیقت اسلام کے دائرہ سے خارج کرتا ہے۔مطلقاً اسلام سے خارج نہیں کرتا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں اپنے منکروں کو اسلام کے دائرہ سے خارج بیان فرمایا ہے وہاں بعض جگہ بڑے بڑے صاف الفاظ میں ان کو مسلمان بھی لکھا ہے۔بعض نادان اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود پر اعتراض کر دیتے ہیں کہ کہیں آپ کچھ لکھتے ہیں اور کہیں کچھ۔وہ اتنا نہیں سوچتے کہ جب خاتم النبیین کی بعثت نے اسلام کو دو دائروں میں تقسیم کیا ہے تو پھر یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص با وجود ایک دائرہ سے خارج ہو جانے کے دوسرے دائرہ کے اندر داخل رہے۔غرض حضرت مسیح کے کلام میں کوئی تناقض نہیں ہاں ہمارے بعض احباب کی عقلوں پر پردہ ہے کہ وہ ایسی موٹی بات نہیں سمجھ سکتے۔میں چیلنج کرتا ہوں تمام غیر مبایعین احباب کو کہ وہ مجھے یہ دکھا دیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہیں حقیقت اسلام کا ذکر فرماتے ہوئے اپنے منکروں کو مسلمان کہا یا لکھا ہو۔اسی طرح میرا یہ بھی دعوی ہے کوئی صاحب ایسا حوالہ بھی پیش نہیں کر سکتے کہ جس میں حضرت مسیح موعود نے عام طور پر قومی رنگ میں ذکر فرماتے ہوئے اپنے منکروں کو مسلمان کے سوا کسی اور نام سے یاد کیا ہو۔حالانکہ میں بفضل خدا ایک نہیں بیسیوں ایسے حوالے پیش کر سکتا ہوں جن میں حضرت مسیح