مضامین بشیر (جلد 1) — Page 143
۱۴۳ مضامین بشیر فوجی تربیت کے خیال سے کرایا گیا تھا) سیر نہیں ہو گئیں۔آپ اسی طرح کھڑے رہے۔نا ایک اور موقع پر جبکہ حضرت عائشہ ایک سفر میں آپ کے ساتھ تھیں آپ نے ان کے ساتھ دوڑنے کا مقابلہ کیا جس میں حضرت عائشہ آگے نکل گئیں۔پھر ایک دوسرے موقع پر جبکہ عائشہ کا جسم کسی قدر بھاری ہو گیا تھا آپ دوڑے تو حضرت عائشہ پیچھے رہ گئیں جس پر آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا :- " هذه بتلك 66 یعنی لو عا ئشہ اب اس دن کا بدلا اتر گیا ہے۔ایک دن حضرت عائشہ اور حفصہ بنت عمر نے صفیہ کے متعلق مذاق مذاق میں کچھ طعن کیا کہ وہ ہمارا مقابلہ کس طرح کر سکتی ہے ہم رسول اللہ کی صرف بیویاں ہی نہیں بلکہ آپ کی برادری میں آپ کی ہم پلہ ہیں اور وہ ایک غیر قوم ایک یہودی رئیس کی لڑکی ہے۔صفیہ کے دل کو چوٹ لگی اور وہ رونے لگ گئیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو صفیہ کو روتے دیکھ کر وجہ دریافت کی۔انہوں نے کہا عائشہ نے آج مجھ پر یہ چوٹ کی ہے۔آپ نے فرمایا واہ یہ رونے کی کیا بات تھی تم نے یہ کیوں نہ جواب دیا کہ میرا باپ خدا کا ایک نبی ہارون اور میرا چا خدا کا ایک بزرگ نبی موسیٰ۔اور میرا خاوند محمد (صلعم) خاتم النبین ۱۲۔پھر مجھ سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے۔بس اتنی سی بات سے صفیہ کا دل خوش ہو گیا۔نو جوانی کی حالت میں طبعاً محبت کے جذبات زیادہ تیز ہوتے ہیں اور ایسا شخص دوسرے کی طرف سے بھی محبت کا زیادہ مظاہرہ چاہتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو علم النفس کے کامل ترین ماہر تھے اس جہت سے بھی اپنی بیویوں کے مزاج کا خیال رکھتے تھے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عائشہ نے ( جو آپ کی ساری بیویوں میں سے خوردسالہ تھیں ) کسی برتن سے منہ لگا کر پانی پیا جب وہ پانی پی چکیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن کو اٹھایا اور اسی جگہ منہ لگا کر پانی پیا جہاں سے حضرت عائشہ نے پیا تھا۔اس قسم کی باتیں خواہ اپنے اندر کوئی زیادہ وزن نہ رکھتی ہوں مگر ان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن معاشرت پر ایک ایسی روشنی پڑتی ہے جسے کوئی وقائع نگار نظر انداز نہیں کر سکتا۔الغرض محبت میں تلطف میں دلداری میں وفاداری میں تعلیم و تربیت میں تادیب واصلاح میں اور پھر مختلف بیویوں میں عدل وانصاف میں آپ ایک ایسا کامل نمونہ تھے کہ جب تک نسل انسانی کا وجود قائم ہے دنیا کے لئے ایک شمع ہدایت کا کام دے گا۔اللهم صل علی محمد وعلى ال محمد و بارک وسلم۔( مطبوعه الفضل ۳۱ مئی ۱۹۲۹ء )