مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 133 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 133

۱۳۳ مضامین بشیر ناظران سلسلہ کی ہدایت کے ماتحت ہے جس طرح دوسرے مقامی امیر ہیں کیونکہ ناظران مرکزی نظام سلسلہ کے رکن ہیں اور امیر خواہ مرکز کی جماعت کا ہی ہو محض ایک مقامی عہدیدار ہے۔اس کی مثال ایسی کھنی چاہیئے کہ مثلاً لا ہور جو پنجاب کا دارالسلطنت ہے وہاں ایک ڈپٹی کمشنر ہوتا ہے جو ایک مقامی حیثیت رکھتا ہے اور وہیں پر حکومت پنجاب کے مختلف سیکرٹریان یا ممبران ایگزیکٹو کونسل بھی رہتے ہیں جو مرکزی حکومت کے رکن ہیں۔اب کوئی شخص یہ خیال نہیں کر سکتا کہ لاہور کا ڈپٹی کمشنر جو مقامی عہدیدار ہے وہ مرکزی حکومت کے ارکان کے کام میں دخیل ہوسکتا ہے یا ان کو ہدایات جاری کر سکتا ہے۔دراصل سارا دھوکا اس لئے لگا ہے کہ حضرت کی موجودگی میں قایان میں کوئی مقامی امیر نہیں ہوتا کیونکہ حضرت باتباع سنت نبوی صرف اپنی غیر حاضری میں قادیان کا مقامی امیر مقرر فرماتے ہیں۔حضرت کی موجودگی میں بھی کوئی مقامی امیر ہوا کرتا تو یہ غلط نہیں نہ پیدا ہوتی مگر چونکہ مرکز کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کا مقامی امیر بھی خلیفہ وقت ہوا کرتا ہے اس لئے یہ مغالطہ لگ گیا ہے کہ قادیان کے مقامی امیر کے وہ اختیارات اور وہ ذمہ داریاں سمجھ لی گئی ہیں جو خلیفہ کے عہدہ کے ساتھ خاص ہیں۔بہر حال میں اس اعلان کے ذریعہ احباب کی اس غلط فہمی کو دور کر دینا چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آئندہ احباب اپنے نظام حکومت اور سیاست سلسلہ کے اصول سے اس قدرنا واقعی کا اظہار نہیں کریں گے۔یہ امر بھی اس ضمن میں واضح ہونا چاہیئے کہ حضرت جب کبھی قادیان سے باہر تبدیل آب و ہوا وغیرہ کے لئے تشریف لے جاتے ہیں تو اپنے پیچھے صرف قادیان کا مقامی امیر کسی کو مقر رفرماتے ہیں۔پس قادیان کے امیر کا تعلق صرف قادیان کی جماعت کے ساتھ ہوتا ہے۔دوسری جماعتوں کے ساتھ اس کا کوئی انتظامی تعلق نہیں ہوتا۔پس بیرونی احباب کا قادیان کے امیر کے ساتھ ان امور میں خط و کتابت کرنا جن امور میں وہ پہلے حضرت کے ساتھ خط و کتابت فرمایا کرتے تھے، کسی طرح بھی درست رائے نہیں ہے۔مطبوعہ الفضل ۱۷ جولائی ۱۹۲۸ء)