مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 125 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 125

۱۲۵ مضامین بشیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مندرجہ بالا خط کا مضمون حسب ذیل ہے۔بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم مجی عزیزی شیخ غلام نبی صاحب سلم اللہ تعالی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکانہ۔کل کی ڈاک میں مجھ کو آپ کا عنایت نامہ ملا۔میں امید رکھتا ہوں کہ آپ کی اس نیک نیتی اور خوف الہی پر اللہ تعالیٰ خود کوئی طریق مخلصی کا نکال دے گا۔اس وقت تک صبر سے استغفار کرنا چاہیئے اور سود کے بارہ میں میرے نزدیک ایک انتظام احسن ہے اور وہ یہ ہے کہ جس قدر سود کا روپیہ آ وے آپ اپنے کام میں اس کو خرچ نہ کریں بلکہ اس کو الگ جمع کرتے جاویں اور جب سود دینا پڑے اسی روپیہ میں سے دیدیں اور اگر آپ کے خیال میں کچھ زیادہ روپیہ ہو جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ وہ روپیہ کسی ایسے دینی کام میں خرچ ہو جس میں کسی شخص کا ذاتی خرچ نہ ہو بلکہ صرف اس سے اشاعت دین ہو۔میں اس سے پہلے یہ فتویٰ اپنی جماعت کے لئے بھی دے چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جوسود حرام فرمایا ہے وہ انسان کی ذاتیات کے لئے ہے حرام یہ طریق ہے کہ کوئی انسان سود کے روپیہ سے اپنی اور اپنے عیال کی معیشت چلا دے یا خوراک یا پوشاک یا عمارت میں خرچ کرے یا ایسا ہی کسی دوسرے کو اس نیت سے دے کہ وہ اس میں سے کھاوے یا پہنے لیکن اس طرح پر کسی سود کے روپیہ کا خرچ کرنا ہرگز حرام نہیں ہے کہ وہ بغیر اپنے کسی ذرہ ذاتی نفع کے خدا تعالیٰ کی طرف رد کیا جاوے یعنی اشاعت دین پر خرچ کیا جاوے۔قرآن شریف سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کا مالک ہے جو چیز اس کی طرف آتی ہے وہ پاک ہو جاتی ہے بجز اس کے کہ ایسے مال نہ ہوں کہ انسانوں کی مرضی کے بغیر لئے گئے ہوں۔جیسے چوری یار ہرنی یا ڈا کہ کہ یہ مال کسی طرح سے بھی خدا کے اور دین کے کاموں میں بھی خرچ کرنے کے لائق نہیں لیکن جو مال رضامندی سے حاصل کیا گیا ہو وہ خدا تعالیٰ کے دین کے رد میں خرچ ہو سکتا ہے۔دیکھنا چاہیئے کہ ہم لوگوں کو اس وقت مخالفوں کے مقابل پر جو ہمارے دین کی رد میں شائع کرتے ہیں کس قدر روپے کی ضرورت ہے گویا یہ ایک جنگ ہے جو ہم ان سے کر رہے ہیں۔اس صورت میں اس جنگ کی امداد کے لئے ایسے مال اگر خرچ کئے جاویں تو کچھ مضائقہ نہیں۔یہ فتویٰ ہے جو میں نے دیا ہے اور بیگا نہ عورتوں سے بچنے کے لئے آنکھوں کو خوابیدہ رکھنا اور کھول کر نظر نہ ڈالنا کافی ہے اور پھر خدا تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا۔یہ تو شکر کی بات ہے کہ دینی سلسلہ کی تائید میں آپ ہمیشہ اپنے مال سے مدد دیتے رہتے ہیں۔اس ضرورت کے وقت