مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 118 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 118

مضامین بشیر ۱۱۸ سے رک جاتی ہے اور لوگوں کو آزاد چھوڑ دیتی ہے کہ اپنی عقل خدا داد اور شریعت کے قیاس کے ما تحت خود اپنے واسطے ان تفصیلات میں طریق عمل قائم کریں۔اس جگہ اس بات کا بیان بھی ضروری ہے کہ در حقیقت کسی شرعی حکم کے توڑنے میں دو قسم کا نقصان اور اس کے مان لینے میں دو قسم کا فائدہ ہوتا ہے۔ایک فائدہ یا نقصان تو یہ ہے کہ چونکہ ہر شرعی حکم کسی حکمت پر مبنی ہوتا ہے اور اپنے اندر بعض طبعی خواص رکھتا ہے اس لئے اس کا مان لینا وہ نیک اثرات پیدا کرتا ہے جو اس کا طبعی نتیجہ ہیں اور اسی طرح اس کا نہ ماننا وہ بد اثرات پیدا کرتا ہے جو طبعی طور پر اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے چاہئیں اور دوسرا فائدہ یا نقصان یہ ہے کہ چونکہ خدا کا یہ حکم ہے کہ شریعت کی پابندی اختیار کی جائے۔اس لئے کسی شرعی حکم کا مان لینا قطع نظر اس کے فائدہ کے خدا کی رضا کا موجب اور اس کا نہ ماننا قطع نظر اس کے نقصان کے خدا کی ناراضگی کا باعث ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسے تفصیلی امور کو شریعت کا حصہ بنانے سے احتراز فرمایا ہے۔جن کے اختیار کرنے میں کوئی بڑے فوائد مترتب نہیں ہو سکتے مگر ان کے ترک کرنے میں خدا کی ناراضگی کا پہلوضرور موجود ہے تا کہ کمزور لوگ ان امور میں نافرمانی کر کے خدا کی ناراضگی کا نشانہ نہ بنیں۔خلاصہ کلام یہ کہ شریعت نے صرف انہی امور میں دخل دیا ہے جن میں دخل دینا انسان کی اخلاقی اور روحانی ترقی کیلئے ضروری اور لا بدی تھا۔اور باقی امور میں انسان کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ خود اپنا طریق عمل قائم کرے اور اس لئے در حقیقت شریعت کا کوئی حکم بھی چھوٹا نہیں سمجھا جا سکتا اور گو احکام میں تفاوت ضرور ہے لیکن سب احکام یقیناً ایسے ہیں جو انسان کے اخلاق وروحانیت پر بالواسطہ یا بلا واسطہ معتد بہ اثر ڈالتے ہیں۔پس اگر کسی بات کے متعلق یہ ثابت ہو جائے کہ وہ ایک شرعی حکم ہے تو کسی مومن کے لئے ہر گز یہ زیب نہیں کہ وہ یہ سوال اٹھائے کہ یہ چھوٹا ہے۔اس لئے اس کے ماننے کی چنداں ضرورت نہیں یا یہ کہ اس بات کو دین و ایمان سے کوئی تعلق نہیں۔وہ ہستی جس نے ہمارے لئے دین و ایمان کا نصاب مقرر فرمایا ہے اور جس کے سامنے جا کر ہم نے کسی دن اس نصاب کا امتحان دینا ہے وہ جب کسی بات کو ہمارے دین وایمان کا حصہ قرار دیتی ہے تو ہمیں کیا حق ہے کہ ہم اسے لاتعلق سمجھ کر ٹال دیں اور اگر ہم اپنی نادانی سے ایسا کریں گے تو نقصان اُٹھا ئیں گے۔کیونکہ ہمارا ممتحن ہمارے خیال کے مطابق ہمارا امتحان نہیں لے گا بلکہ اس نصاب کے مطابق لے گا جو اس نے مقر ر کیا ہے۔اندریں حالات بحث طلب امر صرف یہ رہ جاتا ہے کہ آیا کوئی بات شریعت کا حصہ ہے یا نہیں یا