مضامین بشیر (جلد 1) — Page 119
119 مضامین بشیر موجودہ بحث کے لحاظ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آیا ڈاڑھی کا رکھنا شریعت کا حصہ قرار پاتا ہے یا نہیں سواس کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ ہر وہ بات جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کیا ہے اور اس کے کرنے کا اپنی امت کو حکم دیا ہے وہ شریعت کا حصہ ہے بشرطیکہ اس کے خلاف کوئی واضح قرینہ موجود نہ ہوا اور عقل بھی یہی چاہتی ہے شارع جس کام کو کرے اور اس کے کرنے کا حکم دے وہ شریعت کا حصہ ہونی چاہیئے۔ہاں البتہ ایسی باتوں کے متعلق اختلاف ہے جن کو شارع نے خود تو ہے مگر ان کے کرنے کا حکم نہیں دیا۔یا جن کے متعلق شارع نے بعض صورتوں میں ہدایت تو دی ہے لیکن خود اس کی پابندی اختیار نہیں کی کیونکہ ان دونوں صورتوں میں شبہ کا احتمال ہے کہ ممکن ہے وہ شارع کی ذاتی خصوصیت یا ذاتی میلان طبع کے ساتھ تعلق رکھتی ہوں اور دین کا حصہ نہ ہوں اور اسی طرح بعض اور باتوں کے متعلق بھی اشتباء کا پہلو ہوسکتا ہے کہ کیا وہ شریعت کا حصہ ہیں یا نہیں اور اسی لئے ان کے متعلق علماء میں اختلاف ہے مگر بہر حال یہ مسلم ہے کہ جس بات کو شارع نے کیا اور اس کے کرنے کا حکم دیا وہ شریعت کا حصہ ہے بشرطیکہ کوئی واضح قرینہ اس کے خلاف موجود نہ ہو۔اب اس تشریح کے لحاظ سے دیکھا جائے تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ ڈاڑھی کا رکھنا شریعت اسلامی کا حصہ ہے کیونکہ اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کا حکم دونوں واضح طور پر ہمارے سامنے موجود ہیں اور حدیث شریف سے یہ ہر دو باتیں ثابت ہیں۔یعنی اول یہ کہ آپ کی ڈاڑھی تھی چنا نچہ آپ کے متعلق حدیث میں گسٹ اللحية ل کے الفاظ آتے ہیں یعنی آپ کی ڈاڑھی گھنی تھی اور اسی قسم کی بہت سی احادیث ہیں۔اور دوسرے یہ کہ آپ نے اپنی امت کو یہ ارشادفرمایا کہ ڈاڑھی رکھا کرو۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں :- قصوا الشوارب وأعفواللحى یعنی ڈاڑھیوں کو بڑھاؤ اور مونچھوں کو کاٹ کر چھوٹا کرو۔اور یہ بھی حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ غیر مسلم لوگ آپ کے سامنے آئے جن کی ڈاڑھیاں مونڈھی ہوئی تھیں ان کو دیکھ کر آپ نے نا پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔اور دوسری طرف اس بات کے متعلق قطعاً کوئی قرینہ موجود نہیں ہے کہ آپ کا یہ تعامل اور آپ کا یہ ارشاد ایک یونہی ایک ذاتی پسندیدگی کے اظہار کے طور پر تھا اور دین کا حصہ نہیں ہے۔اور سنت کے لحاظ سے دیکھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی بس نہیں۔بلکہ جتنے بھی نبی دنیا میں گذرے ہیں اور ان کی تاریخ محفوظ ہے ان سب کی ڈاڑھیاں تھیں۔چنانچہ حضرت ہارون کی ڈاڑھی کا قرآن شریف میں بھی ذکر ہے اور حضرت مسیح